تم کو طلاق دیتا ہوں طلاق ہے طلاق طلاق ہے لکھ کر بیوی کو بھیج دیا طلاق واقع ہوئی یا نہیں

طلاق نامہ کہ یہ میرا ہی ہے ایقاع طلاق  کے لئے ضروری ہے صورت مسئولہ میں شوہر کو معلوم نہیں کہ اس کاغذ میں کیا  لکھا گیا ہے اور نہ وہ اقرار ہی کرتا ہے لہذا طلاق واقع نہیں ہوئی یہ لڑکی بدستور اس کی زوجہ ہے –  ولو استکتب من اٰخر کتابا بطلاقھا وقرأہ علی الزوج فاخذہ الزوج و ختمہ و عنونہ و بعث بہ الیھا فاتا ھا وقع ان اقرالزوج وکذا کل کتاب لم یکتبہ بخطہ ولم یملہ بنفسہ لا یقع الطلاق مالم یقرانہ کتابہ – اھ ملخصا(رد المحتار مختصرا) (۱)

زبردستی طلاق نامہ پر دستخط لینے سے طلاق واقع نہیں ہوتی

(سوال)   ایک شخص کی بیوی کے ورثاء نے ایک کاغذ پر اس شخص سے ناجائز دبائوڈال  کر دستخط لیئے ہیں جس میں طلاق کے الفاظ تھے آیا شرعاً یہ طلاق باطل ہے یا نہیں؟
(جواب ۴۸) ناجائز دبائو سے مراد اگر یہ ہے کہ اس کو مارنے یا بند رکھنے کی دھمکی دی تھی اور دھمکی دینے والے اس پر قادر بھی تھے تو اس کے  دستخط کردینے سے طلاق نہیں ہوئی بشرطیکہ  اس کے ذہن میں یہ بات آگئی ہو کہ اگر میں نے دستخط نہیں کئے تو یہ مجھے ضرور ماریں گے یا بند کریں گے لیکن اگر یہ حالت نہ تھی اور پھر بھی اس نے دستخط کردیئے تو اگر یہ دستخط کرنے کا اقرار کرتا ہو کہ باوجود اس علم کے کہ اس میں طلاق لکھی ہوئی ہے  پھر بھی میں نے دستخط کئے ہیں تو طلاق واقع ہوجائے گی- ویقع طلاق کل زوج بالغ عاقل ولو عبد ااومکرھا فان طلاقہ صحیح (درمختار مختصرا) (۲) و فی البحران المراد الاکراہ علی التلفظ بالطلاق فلواکرہ علی ان یکتب طلاق امرأتہ فکتب لا تطلق لان الکتابۃ اقیمت مقام العبارۃ باعتبار الحاجۃ ولا حاجۃ ھہنا- کذافی الخانیۃ              (رد المحتار) (۳)   واللہ اعلم

تم کو ’’طلاق دیتا ہوں‘ طلاق ہے‘ طلاق‘ طلاق ہے‘‘ لکھ کر بیوی کو بھیج دیا طلاق واقع ہوئی یا نہیں؟

(سوال)   ایک شخص بوجہ ناموافقت اپنی زوجہ  کے مفقود ہوگیا ہے مفقود الخبر ہونے کے کچھ دنوں بعد اس نے ایک طلاق نامہ گجراتی زبان میں جس کا ترجمہ  ذیل میں لکھا جاتا ہے لفافہ میں بند کرکے بھیج دیا –
نقل  طلاق نامہ :- بائی رفان بائی بنت عمر بھائی عرف جھانکہ والا تحریر کنندہ عبدالکریم ولد عثمان بھائی جھانکہ والا بعد سلام – میں کہتا ہوں کہ تم کو میں طلاق دیتا ہوں تو آج سے ہماری بہن برابر  ہے تم کو اور مجھ
——————————-
(۱)ہامش رد المحتار‘ کتاب الطلاق‘ مطلب فی الطلاق بالکتابۃ ۳/۲۴۶ ط سعید کراتشی
(۲) الدر المختار مع ہامش رد المحتار ‘ کتاب الطلاق  ۳/۲۳۵ ط سعید کراتشی
(۳) ہامش رد المحتار ‘ کتاب الطلاق مطلب فی الاکرہ علی التوکیل بالطلاق والنکاح والعتاق ۳/۲۳۶ ط سعید کراتشی

3 میں سے 70

کو بھائی بہن کا علاقہ ہے اور تمہارے ہمارے درمیان کچھ ذرہ برابر علاقہ نہیں  رہاتم کو طلاق دیتا  ہوں
طلاق ہے طلاق ہے طلاق ہے – تاریخ ۶ شوال دستخط بقلم خود – تمہارے مہر کا روپیہ مبلغ چوالیس روپے
حسب رواج ہے سو میری ملکیت سے دیں گے باقی ہماری ملکیت سے تم کو دخلہ دینا نہ چاہئیے یہ مضمون تھا جو عرض کیا گیا-
(جواب ۴۹) اس صورت میں اگر زوجہ کو اس امر کا یقین یا گمان غالب ہوجائے  کہ یہ خط میرے خاوند کا ہی لکھا ہوا ہے  تو دیانتہً اسے عدت گزار کر دوسرا نکاح کرنا  جائز ہے اس دوسرے نکاح کے جائز ہونے کا یہ مطلب نہیں کہ شرعاً اس خط سے طلاق ثابت ہوگئی بلکہ اس کا اثر صرف اس قدر ہے کہ عورت کو (جب کہ  اسے یقین یا گمان غالب وقوع طلاق کا ہوگیا ہے ) دوسرا نکاح کرنے سے روکا نہیں جائے گا اور وہ شرعاً گناہ گار نہ ہوگی- صرحوا بان لھا التزوج اذا اتا ھا کتاب منہ بطلاقھا ولو علی ید غیر ثقۃ ان غلب علیٰ  ظنھا انہ حق و ظاھرا لا طلاق جوازہ فی القضاء حتی لو علم القاضی یترکھا الخ  (رد المحتار) (۱)

تحریری طلاق لکھنے سے طلاق واقع ہوجاتی ہے

(سوال)   ایک شخص نے اپنی بیوی کو تحریری طلاق دی تحریر پر دو آدمیوں کی  گواہی ہے مگر ان گواہوں  کی حالت یہ ہے کہ پہلا سود خوار اور یہاں کا وطن دار نہیں ہے کچھ عرصے سے یہاں پر رہنے آگیا ہے اور فی الحال تو یہیں رہتا ہے دوسرا گواہ افیون کھانے والا اور مدک کا پینے والا ہے اور یہ دونوں گواہ جھوٹے اور ناقابل اعتماد ہیں –
المستفتی  نمبر ۱۱۸ بسم اللہ خاں – ضلع مغربی خاندیس
۲۸ رجب ۱۳۵۲؁ھ م ۱۸ نومبر ۱۹۳۳؁ء
(جواب ۵۰)  اگر خاوند نے فی الواقع طلاق دی ہے اور وہ طلاق دینے کا اقرار کرتا ہے تو محض اس  وجہ سے کہ چونکہ گواہ ناقابل شہادت ہیں طلاق غیر مؤثر اور ناقابل اعتبا ر نہیں ہوسکتی بلکہ طلاق واقع ہوجائے گی (۲) لیکن اگر خاوند منکر ہے اور اس کے طلاق دینے کا اور کوئی ثبوت سوائے ان گواہوں کے بیان کے
————————
(۱) ہامش رد المحتار ‘ کتاب الطلاق‘ باب الرجعۃ ۳/۴۲۱ ط سعید کراتشی)
(۲) وفیہ ایضا رجل استکتب من رجل آخر ابی امرأتہ کتابا بطلاقھا وقرأہ علی الزوج فاخذہ و طواہ و ختم و کتب فی عنوانہ و بعث بہ إلی امرأتہ فأتا ھا الکتاب واقر الزوج ا نہکتابہ فان الطلاق یقع علیھا وکذلک لو قال لذلک الرجل ابعث بھذا الکتاب الیھا او قال لہ اکتب نسخۃ وابعث بھا الیھا وان لم تقم علیہ البنیۃ ولم یقرأنہ کتابہ لکنہ  وصف الامر علی وجھہ فانہ لا یلزمہ الطلاق فی القضاء ولا فیما بینہ و بین اللہ تعالیٰ وکذلک کل کتاب لم یکتب بخطہ ولم یملہ بنفسہ لا یقع بہ الطلاق اذا لم یقرانہ کتابہ کذافی المحیط واللہ اعلم بالصواب (الفتاوٰی الھندیۃ کتاب الطلاق الباب الثانی فی ایقاع الطلاق‘ الفصل السادس فی الطلاق بالکتابۃ ۱/۳۷۹ ط ماجدیہ کوئٹہ)

3 میں سے 71

نہیں ہے تو ایسے گواہوں کی گواہی سے طلاق ثابت نہ ہوگی- محمد کفایت اللہ کان اللہ لہ‘

شوہر نے طلاق نامہ لکھواکر‘ اس پر انگوٹھا لگایا اور دوگواہوں کی گواہی کرائی تو کون  سی طلاق واقع ہوگی؟

(سوال ) زید نے اپنی لڑکی مسماۃ ہندہ کی شادی بکر کے ساتھ کردی کچھ عرصہ کے بعد فریقین میں سخت نزاع واقع ہوگئی بکر نے رخصت کرانے کا دعوٰی عدالت مجاز میں کردیا سرکاری حکم کے موافق ہندہ دو سپاہیوں  کے ذریعہ رخصت ہوکر بکر کے  ہمراہ کردی گئی جب بکر رخصت کراکر لے چلا تو بیچ راستہ سڑک پر ہندہ بیٹھ گئی اور اپنے شوہر کے ساتھ جانے سے انکاری ہوگئی بکر نیز اس بستی کے بہت سے لوگوں نے سمجھایا مگر ہندہ جانے پر راضی نہ ہوئی اور بھاگ کر ایک ٹھا کر رام سنگھ کے مکان میں گھس گئی ٹھاکر مذکور نے قانون کا خیال کرتے ہوئے ہندہ کو اپنے گھر سے  باہر کردیا اور سختی سے سمجھاتے ہوئے یہاں تک کہا کہ اگر تو اپنے شوہر  کے ہمراہ نہ جائے  گی تو میں تجھے چار آدمیوں سے بندھواکر بھیجوں گا  مگر کچھ خیال نہ کرتے ہوئے ہندہ سڑک پر ہی بیٹھی رہی اور کہنے لگی بکر نے مجھے ہزاروں قسم کی بے جا تہمتیں لگائی ہیں اس لئے میں اس کے ساتھ نہیں رہ سکتی شوہر (بکر) نے بہتیرا سمجھایا مگر وہ کسی طرح نہ مانی مجبوراً بکر ٹھاکر مذکور کے پاس آیا اور کہنے لگا کہ میر ازیور ہندہ سے دلایا جائے میں اس کو خود نہ رکھوں گا طلاق دیتا ہوں آپ طلاق نامہ لکھ دیجئے میں انگوٹھے کا نشان بنادوں گا ٹھاکر نے اس کو  بھی بہت سمجھایا لیکن بکر طلاق
نامہ لکھوانے سے باز نہ آیا ٹھا کر نے دو مسلمان گواہوں اور کئی سو ہندو گواہوں  کے روبرو جو اس وقت اتفاقیہ پہنچ گئے تھے طلاق نامہ لکھ دیا جس پر بکر نے اپنے انگوٹھے کا نشان بناکر گواہوں سے جو موقع پر موجود تھے کہا کہ تم لوگ دستخط بنادو لہذا گواہوں نے دستخط بنادیئے طلاقنامہ  حسب ذیل ہے –
مینکہ چنو باوا ولد فیروز ساکن موضع کھیرا اسٹیٹ میہر حال مقیم چھتاری جوکہ رخصت کرانے کی ڈگری میں نے عدالت سے اصرار کراکر بذریعہ پنجاب خاں چپڑاسی مسمی کنگی کے یہاں سے رخصت کراپا یا مگر مسماۃ مذکور میرے ہمراہ جانے اور میری زوجیت میںرہنے سے قطعی انکاری ہے چند بھلے آدمیوں کے سمجھانے پر بھی انکار سے باز نہیں آتی ایسی حالت میں اپنی راضی خوشی و بہ درستگی  ہوش و حواس طلاق دے دینا ٹھیک سمجھتا ہوں اس لئے جو میرے زیورات مسماۃ رجی کے جسم پر تھے واپس لیکر تین طلاق دیدیا اور جو روپیہ مطالبہ ڈگری کا      ذمہ کنگی والد رجی مدعا علیہ کے  تھا وہ رقم روبرو گواہان حاشیہ ٹھاکر رام سنگھ ساکن موضع پونڑی کے ہاتھ سے وصول پالیا اس لئے رسید لکھ دیاکہ سند رہے اور وقت ضرورت کام آوے طلاق لکھنے کے کچھ دن بعد بکر کو نہ جانے کیا خیا ل پیدا ہوا یا واللہ اعلم کسی نے اس کو بہکایا لہذا طلاق نامہ لکھنے کے کچھ ہی دن بعد  طلاق نامہ لکھنے اور دینے سے انکاری  ہے اور پھر اپنی مطلقہ کو رخصت کرانے کی کوشش کررہا ہے اور ٹھاکر مذکور کے پاس پہنچ کر کچھ لالچ دے کر کہا کہ طلاق نامہ کو چاک کر ڈالو میری

کفایت المفتی جلد 6 صفحہ 68

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *