طلاق طلاق بائن دی،ایک طلاق دو طلاق بائن دی سے طلاق

المستفتی: محمدشریف الدین، نور نگر، امراوتی (مہاراشٹر)
باسمہ سبحانہ تعالیٰ
الجواب وباللّٰہ التوفیق:  طلاق بائن دو قسموں پر ہے: طلاق بائن صریح اور طلاق بائن کنائی او رطلاق بائن صریح دوسری طلاق بائن صریح سے ملحق ہوجاتی ہے اور طلاق بائن کنائی دوسری طلاق بائن کنائی سے ملحق نہیں ہوتی ہے۔ اور سوال نامہ میں طلاق بائن صریح ہے، نہ کہ طلاق بائن کنائی؛ اس لئے جب شوہر نے تین مرتبہ طلاق بائن دی کا لفظ استعمال کیا ہے، تو تینوں طلاقیں واقع ہوکر کے مغلظہ ہوگئی؛ لہٰذا آئندہ بغیر حلالہ کے دونوں کے درمیان نکاح بھی درست نہ ہوگا۔ (مستفاد: فتاوی دارالعلوم ۹؍۲۰۹)
وعلی ہذا فما وقع في حلب من الخلاف في واقعۃ، وہي أن رجلا أبان امرأتہ، ثم طلقہا ثلاثاً في العدۃ ألحق فیہ أنہ یلحقہا لما سمعت من أن الصریح، وإن کان بائنا یلحق البائن ومن أن المراد بالبائن الذي لا یلحق ہو ماکان کنایۃ علی ما یوجبہ الوجہ۔ (فتح القدیر، زکریا۴/۶۶، بیروت ۴/۷۴، شامي، کتاب الطلاق، باب الکنایات مطلب، الصریح یلحق الصریح والبائن، کراچي۳/۳۰۷، زکریا ۴/۵۴۱)  فقط واﷲ سبحانہ وتعالیٰ اعلم
کتبہ: شبیر احمد قاسمی عفا الله  عنہ
۸؍ جمادی الاولیٰ ۱۴۳۳ھ
(فتویٰ نمبر: الف۳۹ ؍۱۰۶۸۰)
الجواب صحیح:
احقر محمد سلمان منصورپوری غفر لہ
۸؍ ۵؍ ۱۴۳۳ھ

طلاق طلاق بائن دی،ایک طلاق دو طلاق بائن دی سے طلاق

سوال ]۶۵۰۷[:  کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیانِ شرع متین مسئلہ ذیل کے بارے میں:  (۱) کہ کسی شخص نے اپنی بیوی سے جھگڑے کی حالت میں کہا طلاق طلاق بائن دی یایوں کہا کہ ایک طلاق دو طلاق بائن دی، تو مذکورہ صورت میں اس عورت

3 میں سے 91

پر کتنی طلاق پڑیںگی۔
(۲) کسی شخص نے اپنی بیوی کو یوں کہا کہ ایک  طلاق بائن دی، تو اس صورت میں اس عورت پر کتنی طلاق واقع ہوںگی؟ اس سوال کے جواب میں ایک مفتی صاحب نے کہا کہ دوطلاق واقع ہوں گی۔ اب پوچھنا یہ ہے کہ کیا مفتی صاحب اپنے فتوی میں درستگی پر ہیں یاغلطی پرہیں؟  مدلل جواب عنایت فرمائیں۔
المستفتی: قمر الزمان قاسمی
باسمہ سبحانہ تعالیٰ
الجواب وباللّٰہ التوفیق:  (۱) شوہر نے اپنی بیوی سے کہا طلاق طلاق بائن دی، تو اس صورت میں دو طلاق بائن واقع ہوگئیں؛ کیونکہ اس صورت میں اول طلاق صریح ہے اور دوسری طلاق بائن ہے اور جب صریح بائن سے مل جاتی ہے، تو وہ بھی بائن بن جاتی ہے؛ لہٰذا اس صورت میں کل دو طلاق بائن ہوئیں۔
إذا لحق الصریح البائن کان بائناً۔ (شامي، کتاب الطلاق، باب الکنایات الصریح یلحق الصریح البائن، زکریا۴/۵۴۰، کراچي۳/۳۰۷)
اگر شوہر نے اپنی بیوی سے یہ کہا ایک طلاق دو طلاق بائن دی، تو اس صورت میں تین طلاق واقع ہوں گی؛ کیونکہ یہاں ایک صریح کے ساتھ دو طلاق بائن ہیں اور طلاق صریح بائن سے ملنے کی وجہ سے بائن ہو گئی؛ لہٰذا اس طرح کل تین طلاق واقع ہوگئیں۔ (مستفاد: فتاوی دارالعلوم۹؍۳۱۰)
إذا لحق الصریح البائن کان بائناً۔ (شامي، زکریا۴/۵۴۰، کراچي۳/۳۰۷)
(۲) شوہر نے اپنی بیوی سے کہا ایک طلاق بائن دی، تو اس صورت میں اس عورت پر ایک طلاق بائن واقع ہوگی۔
ویقع بقولہ أنت طالق بائن۔ (در مختار، زکریا دیوبند۴/۴۹۸، کراچي۳/۲۷۶)

3 میں سے 92

اور مفتی صاحب کا یہ کہنا کہ طلاق بائن سے دو طلاق واقع ہوں گی درست نہیں ہے۔  فقط واﷲ سبحانہ وتعالیٰ اعلم

کتبہ: شبیر احمد قاسمی عفا الله  عنہ
۲؍ رمضان المبارک ۱۴۲۱ھ
(فتویٰ نمبر: الف۳۵ ؍۶۹۱۱)

طلاق قطعی دینا

سوال ]۶۵۰۸[:  کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیانِ شرع متین مسئلہ ذیل کے بارے میں: کہ ہم دو فریقین کے درمیان یہ طے پایا کہ فریق اول، فریق دوم کو طلاق قطعی دیدے اور فریق دوم اپنا کل زردین مہر مبلغ دس ہزارروپیہ بحق فریق اول معاف کردے؛ لہٰذا روبرو گواہان و پنچایت فریق اول نے فریق دوم کو طلاق قطعی دیدی اور فریق دوم نے اپنی رضا مندی سے کل زر دین مہر دس ہزار روپیہ بحق فریق اول کی زوجیت سے آزاد ہوگئی ہے۔
نیز فریق دوم اب فریق اول سے اپنا زر دین مہر مبلغ دس ہزار روپیہ پانے کا مجاز نہیں رہا ہے، اب ہر دو فریق باہم نکاح کرکے تعلقات رکھنے پر راضی ہیں، اب شریعت میں اس سلسلہ میں کیاحکم ہے؟
المستفتی: محمدحنیف، امروہہ گیٹ، مرادآباد
باسمہ سبحانہ تعالیٰ
الجواب وباللّٰہ التوفیق:  سوال نامہ اور اقرار نامہ دونوں میں جو طلاق قطعی کا لفظ ہے، اس سے آمنہ خاتون پر ایک طلاق بائن واقع ہوگئی ہے۔
وإذا وصف الطلاق بضرب من الزیادۃ، والشدۃ کان بائنا مثل أن یقول أنت طالق بائن، أو البتۃ۔ (ہدایۃ اشرفي بکڈپو دیوبند۲/۳۶۹)
وفي البنایۃ أنت طلاق البتۃ أي القطع۔ (بنایہ عیني ، شرح ہدایۃ

فتاوی قاسمیہ جلد 15 صفحہ 89

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *