غصے میں بیوی کا “میرا تو ایمان ہی نہیں ہے” کہنے پر کفر اور تجدید ایمان و نکاح کا حکم اور صحبت کے کفارے کا بیان

سوال

فرض کریں زید اور اس کی بیوی میں جھگڑا ہوا، زید کی بیوی نے غصے میں ایک پیپر پہ لکھا کہ ” میں نے تجھے الگ کردیا“ اور زید سے کہا کہ اس پر دستخط کرو۔ زید نے منع کردیا ، لیکن کسی ایک شخص نے جو وہاں موجود تھا، زید کی بیوی سے کہا ایسا تو ہندو لوگ کرتے ہیں، اس پر زید کی بیوی نے غصے میں کہا کہ ” میرا تو ایمان ہی نہیں ہے“۔ (نعوذ باللہ)۔بعد میں اس نے کلمہ پڑھ لیا اور توبہ کرلی تو اس صورت میں کیا زید کی بیوی ایمان سے خارج ہوگئی؟اور تجدید نکاح ایمان اور تجدید نکاح کی ضرورت ہے؟ اگر ہے تو تجدید ایمان و تجدید انکاح کس طرح کیا جائے؟ اس بیچ میں دونوں نے صحبت کی تو اس کا کفارہ کیا ہوگا؟براہ کرم، جواب دیں؟

جواب

بسم الله الرحمن الرحيم
Fatwa ID: 972-972/M=10/1437
صورت مسئولہ میں زید کی بیوی نے جس پس منظر میں یہ جملہ کہا کہ ”میرا تو ایمان ہی نہیں ہے“ اس سے وہ ایمان سے خارج ہوگئی، بعد میں جب اس نے کلمہ پڑھ لیا اور سچی توبہ کرلی تو وہ اسلام میں داخل ہوگئی، اور مختار قول کے مطابق چونکہ نکاح نہیں ٹوٹا اس لیے تجدید نکاح لازم واجب نہیں ہاں احتیاطاً تجدید نکاح کرلیا جائے تو بہتر ہے۔ اس کی صورت یہ ہے کہ دو گواہوں کی موجودگی میں نکاح کا ایجاب و قبول ہوجائے، اور ارتداد کے بعد تجدید ایمان سے پہلے دونوں کے مابین صحبت کا عمل ہوا تو یہ غلط ہوا، اس پر دونوں صدق دل سے توبہ استغفار کریں، یہی اس گناہ کا کفارہ ہے۔
واللہ تعالیٰ اعلم
دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

ار الافتاء:دار الافتاء دار العلوم دیوبند
فتویٰ نمبر:65098
تاریخ فتویٰ:Jul 26, 2016

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *