حج بدل کے لیے کون شخص بھیجا جا سکتا ہے حج نہ کرنے والے کی طرف سے حج بدل کرنا اور شیعہ کا حج بدل کرنا

سوال

ہت شکریہ کہ آپ نے میرے سوال کا جوا ب دیا۔ میں نے حج بدل کے بارے میں سوال کیا تھا۔ اس سوال کا دوسرا حصہ: الحمد للہ میں دیوبندی سنی ہوں، میں اپنے دادا جو کہ وفات پاچکے ہیں ان کی جگہ پر کسی کو حج پر بھیجنا چاہتاہوں۔ حج بدل کے لیے کس آدمی کو بھیجا جاسکتاہے؟ کیا اس کو جس نے پہلے سے حج کر رکھا ہو یا جس نے پہلے سے حج نہ کیا ہو وہ بھی جاسکتا ہے؟ او رکیا دیوبندی سنی کی جگہ پر کسی شیعہ مسلک کا بندہ حج کرسکتا ہے ؟ کیا مرد کی جگہ پر عورت حج بدل کرسکتی ہے؟ تفصیل سے جواب دیں۔

جواب

بسم الله الرحمن الرحيم
فتوی: 657=552/د

جس نے اپنا حج فرض ادا کرلیا ہو، اور مسائل حج سے واقف ہو عالم بھی ہو تو اور بہتر ہے، ایسے شخص کو حج بدل کے لیے بھیجنا بہتر ہے۔ اور جس نے حج ادا نہیں کیا ہے اس پر حج فرض نہ ہونے کی وجہ سے ایسے کو بھیجنا خلاف اولیٰ ہے، پھر بھی حج ادا ہوجائے گا۔ اور جس پر اپنا حج فرض ہو اور ابھی ادا نہیں کیا، ایسے شخص کا دوسرے کی طرف سے حج بدل کے لیے جانا مکروہ تحریمی ہے، اگرچہ بھیجنے والے کا حج اس صورت میں بھی ادا ہوجائے گا۔
( ۲) بعض تو ان میں کافر ومرتد ہوتے ہیں، ان کا حج ادا ہی نہیں ہوگا، اور جو غالی نہیں ہیں کفریہ عقائد نہیں رکھتے ان سے بھی حج بدل کرانا درست نہیں ہے۔
( ۳) عورت حج بدل کرسکتی ہے۔
واللہ تعالیٰ اعلم
دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

دار الافتاء:دار الافتاء دار العلوم دیوبند
فتویٰ نمبر:11415
تاریخ فتویٰ:Apr 5, 2009

 

 

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *