( متفرقات اوقات )

جمع بین الصلوتین کا حکم

:
مسئلہ ( ۴۵ ) : کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ کہاجاتاہے کہ سفرکے دوران ظہرین ( ظہروعصر ) اور مغربین ( مغرب وعشاء ) ایک ساتھ پڑھی جاسکتی ہیں کیایہ صحیح ہے مہربانی فرماکرراہنمائی فرمائیں ۔

الجواب باسم الملک الوہاب

دونمازوں کو ایک وقت جمع کرکے اداکرنا درست نہیں ہے البتہ ایک نماز کو اس کے آخری وقت میں اداکرلے اوردوسری نماز کو اول وقت میں اداکرلے تو یہ صورت مرض یا سفر میں درست ہے ۔
’’ فکما لایجمع بین العشاء والفجر ولابین الفجر والظہر لاختصاص کل واحدمنہما بوقت منصوص علیہ شرعا فکذلک الظہر مع العصر والمغرب مع العشاء وتاویل الاخبار ان الجمع بینہما کان فعلا لاوقتا وبہ نقول وبیان الجمع فعلا ان المسافر یؤخر الظہر الی آخرالوقت ثم ینزل فیصلی الظہر ثم یمکث ساعۃ حتی یدخل وقت العصر فیصلیہا فی اول الوقت وکذلک یؤخرالمغرب الی آخرالوقت ثم یصلیہا فی آخرالوقت والعشاء فی اول الوقت فیکون جامعابینہما فعلا ‘‘ … ( المبسوط : ۱ / ۲۹۸ )
’’ ( وعن الجمع بین الصلاتیں فی وقت بعذر ) ای منع عن الجمع بینہما فی وقت واحدبسبب العذر للنصوص القطعیۃ بتعیین الاوقات فلایجوزترکہ الا بدلیل مثلہ ……واما ماروی من الجمع بینہما فمحمول علی الجمع فعلابان صلی الاولی فی آخروقتہا والثانیۃ فی اول وقتہا ‘‘ … ( البحرالرائق : ۱ / ۴۴۱ )
’’ ولایجوز الجمع عندنابین صلوتین فی وقت واحدسوی الظہروالعصربعرفۃ والمغرب والعشاء بمزدلفۃ ‘‘ … ( حلبی کبیری : ۴۷۰ )
واللہ تعالی اعلم بالصواب
٭٭٭٭٭٭٭

3 میں سے 83

اوقات نمازکی تعیین کے لیے حدیث امامت جبریل علیہ السلام اصل ہے

:
مسئلہ ( ۴۶ ) : طلوع آفتاب اورغروب آفتاب سے نمازوں کے اوقات کس طرح متعین کئے جاتے ہیں ؟

الجواب باسم الملک الوہاب

واضح رہے کہ اوقات نمازمیں اصل ’’ حدیث جبرئیل ‘‘ ہے ، جبکہ ہرنمازکے لیے اول وآخروقت اس حدیث سے ثابت ہیں جومندرجہ ذیل ہے :
’’ أخبرنی ابن عباس رضی اللہ عنہ أن النبی صلی اللہ علیہ وسلم قال أمنی جبرئیل عندالبیت مرتین فصلی الظہرفی الأولی منہماحین کان الفئ مثل الشراک ثم صلی العصرحین کان کل شئ مثل ظلہ ثم صلی المغرب حین وجبت الشمس ( أی غربت ) وأفطرالصائم ثم صلی العشاء حین غاب الشفق ثم صلی الفجرحین برق الفجر ( أی طلع ) وحرم الطعام علی الصائم وصلی المرۃ الثانیۃ الظہرحین کان ظل کل شئ مثلہ لوقت العصربالأمس ثم صلی العصرحین کان ظل کل شیء مثلیہ ثم صلی المغرب لوقتہ الأول ثم صلی العشاء الآخرۃ حین ذہب ثلث اللیل ثم صلی الصبح حین اسفرت الأرض ثم التفت الیَّ جبرئیل فقال یا محمد ہذاوقت الأنبیاء من قبلک والوقت فیمابین ہذین الوقتین ‘‘ … ( جامع الترمذی : ۱ ؍ ۱۳۴ )
ترجمہ : حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاکہ میری جبرائیل علیہ السلام نے بیت اللہ کے پاس دومرتبہ امامت کروائی ، پہلی مرتبہ ظہرکی نمازپڑھائی جبکہ ہرچیزکاسایہ جوتی کے تسمہ کے برابرتھا ، پھرعصرکی نمازپڑھائی ، جبکہ ہرچیزکاسایہ اس کی مثل ہوگیا ، پھرمغرب کی نمازپڑھائی جبکہ سورج غروب ہوا ، اورروزہ دارنے روزہ افطارکیاپھرعشاء کی نمازپڑھائی جبکہ شفق غائب ہوگیا اورفجرکی نمازاس وقت پڑھائی جب صبح صادق ظاہرہوئی اورجس وقت روزہ دارکے لیے کھاناحرام ہوجاتاہے ۔ اوردوسری مرتبہ ظہرکی نمازاس وقت پڑھائی جب ہرچیزکاسایہ اس کی مثل ہوجاتاہے ، جس وقت کل عصرپڑھی تھی پھرعصرکی نمازہرچیزکاسایہ دوگناہونے پر ، پھرمغرب پہلے دن کے وقت پراورپھرعشاء تہائی رات گزرجانے پر ، پھرصبح کی نمازاس وقت جب زمین روشن ہوگئی پھرجبرائیل علیہ السلام نے میری طرف متوجہ ہوکرکہا اے محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) ! ’’ یہ آپ سے پہلے انبیاء کاوقت ہے اوران دونوں کے درمیان نمازکاوقت ہے ‘‘ ۔

3 میں سے 84

اصل میں نمازوں کے اوقات طلوع آفتاب اورغروب آفتاب سے متعین نہیں کئے گئے ، بلکہ اس حدیث کے ذریعے سے متعین کئے گئے ہیں اوراس حدیث کی روشنی میں فقہاء کرام نے وقت کی تعیین کے بارے میں لکھاہے کہ طلوع آفتاب وغروب آفتاب سے نمازوں کے مستحب اوقات مندرجہ ذیل ہیں :

۱ ۔ نمازفجر

:
طلوع فجر ( صبح صادق ) اورطلوع شمس کے نصف پرنمازفجرکے مستحب وقت کی ابتداء ہے اورانتہایہ ہے کہ جب نمازشروع کی جائے تواس وقت طلوع آفتاب میں کم ازکم نصف گھنٹہ باقی ہو ۔
’’ ویستحب فی صلوۃ الفجرالاسفار ‘‘ … ( کبیری : ۲۰۳ ، مکتبہ نعمانیہ کوئٹہ )

۲ ۔ نمازظہر

:
طلوع وغروب کے درمیانی وقت کے بعد نمازظہراداکی جاسکتی ہے مگراس میں تفصیل یہ کہ موسم سرمامیں جلدی پڑھنا اورموسم گرمامیں دیرسے پڑھنامستحب ہے ۔
’’ ویستحب ایضاًعندنا الابرادبالظہرفی الصیف …ویستحب تقدیمہافی الشتاء ‘‘ … ( کبیری : ۲۰۴ ، مکتبہ نعمانیہ کوئٹہ )

۳ ۔ نمازعصر

:
غروب شمس سے تقریباً پونے دوگھنٹے قبل ، تاہم اصفرارشمس یعنی سورج کی ٹکیہ زردہوجانے تک تاخیرکرنامکروہ تحریمی ہے اوراصفرارشمس غروب سے تقریباً دس منٹ پہلے ہوتاہے اوریہ وہ وقت ہے جب آنکھ سورج پرٹک سکے ۔
’’ ویستحب ایضاعندناتأخیرالعصرفی کل الازمنۃ الایوم الغیم مالم تتغیرالشمس ‘‘ … ( کبیری : ۲۰۴ ، مکتبہ نعمانیہ کوئٹہ )

۴ ۔ نمازمغرب

:
جب سورج ڈوب گیاتومغرب کاوقت آگیاپھرجب مغرب کی طرف آسمان کے کنارے پرسرخی باقی رہتی ہے تب تک مغرب کاوقت رہتاہے غروب کے بعد معمولی دیرکاتومضائقہ نہیں ، لیکن تیقن غروب کے بعد فوراً اذان کہنی چاہیے اوراذان اوراقامت میں تھوڑاساوقفہ بھی ماموربہ ہے جس کی مقدارتین آیتوں کاپڑھناہے اگراس سے زیادہ دیرکی تواس میں تفصیل یہ ہے کہ ستاروں کے ظاہر ہونے تک تاخیرکرناتومکروہ تحریمی ہے اوراتنی دیرکرناکہ ایک آدھ

 

ارشاد المفتین جلد 3 صفحہ 81

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *