عصری علوم حاصل كرنے والے غریب طلبہ کے کرایہ پر زکاة کی رقم صرف کرنا؟

سوال

ہمارے شہر گلبرگہ (کرناٹک) میں اردو میڈیم اسکول بہت ہیں۔ لیکن طلبہ انگلش میڈیم میں جاتے ہیں، اگر غریب طلبہ کو غریب لوگوں کی بستی سے لانا ہوتو آٹو رکشہ بھیجنا پڑتا ہے۔ اساتذہ کرام آٹو رکشہ کا کرایہ دے کر ان بچوں کو غریب بستی سے لاکر اردو میڈیم اسکول میں پڑھاتے ہیں، بچے نہ ہونے پر حکومت اردو میڈیم اسکول کو بند کر سکتی ہے، کیونکہ بچوں کی تعداد نہ ہونے کا بہانہ بنا سکتی ہے۔ اسی لیے اساتذہ کرام اپنی زکوة کی رقم میں سے ان بچوں کے آٹو رکشہ کا کرایہ دیتے ہیں۔ کیا ان کی یہ زکوة قبول ہوگی؟
جزاک اللہ !

جواب

بسم الله الرحمن الرحيم Fatwa ID: 1251-1263/N=11/1437
ادائیگی زکوة میں مستحق زکوة کو زکوة کی رقم یا اس سے خرید کردہ کسی عین کا مالک بنانا ضروری ہوتا ہے، زکوة کی رقم سے منفعت فراہم کرنے سے زکوة ادا نہیں ہوتی؛ اس لیے صورت مسئولہ میں جو آٹو رکشہ خود اساتذہ نے غریب ومستحق بچوں کو ان کی بستیوں سے اسکول لانے کے لیے متعین کیا ہے، اس کے کرایہ میں بھرنا درست نہیں، البتہ اگر غریب ومستحق زکوة بچے خود آٹو رکشہ کرکے آئیں اور انھیں ماہانہ مد زکوة کی رقم دیدی جائے اوروہ اسے آٹو کرایہ میں خرچ کریں تو اس میں کچھ حرج نہیں، زکوة ادا ہوجائے گی، البتہ ان بچوں کے متعلق مستحق زکوة ہونے نہ ہونے کی تحقیق کرلینا ضروری ہیں، جس کا معیار یہ ہے کہ ان میں جو بچے بالغ ہوں وہ خود صاحب نصاب نہ ہوں اور جو نابالغ ہوں وہ اور ان کے والد دونوں میں سے کوئی صاحب نصاب نہ ہو، نیز یہ سادات خاندان سے بھی نہ ہوں تب انھیں زکوة دے سکتے ہیں، اور ان میں جو بچے صاحب نصاب ہوں یا سادات خاندان ہوں یا اگر وہ نابالغ ہیں تو ان کے والد صاحب نصاب ہوں تو انھیں زکوة نہیں دے سکتے، (جزء مال) خرج المنفعة فلو أسکن فقیراً دارہ سنة ناویاً الزکاة لا یجزیہ (الدر المختار مع رد المحتار، أول کتاب الزکاة، ۳: ۱۷۱، ۱۷۲، ط: مکتبة زکریا دیوبند) ، قولہ: ”فلو أسکن الخ“ : عزاہ فی البحر إلی الکشف الکبیر وقال قبلہ: والمال کما صرح بہ أھل الأصول ما یتمول ویدخر للحاجة، وھو خاص بالأعیان فخرج بہ تملیک المنافع اھ (رد المحتار) ، قال اللہ تعالی: إنما الصدقت للفقراء والمساکین الآیة (سورہ توبہ آیت: ۶۰) ، ولا إلی غني یملک قدر نصاب فارغ عن حاجتہ الأصلیة من أي مال کان الخ، … ولا إلی طفلہ بخلاف ولدہ الکبیر……ولا إلی بنی ھاشم الخ (الدر المختار مع رد المحتار، کتاب الزکاة، باب المصرف، ۳: ۲۹۵-۲۹۹، ط: مکتبة زکریا دیوبند) ۔
واللہ تعالیٰ اعلم
دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

دار الافتاء:دار الافتاء دار العلوم دیوبند
فتویٰ نمبر:68936
تاریخ فتویٰ:Sep 3, 2016

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *