سوال
اگر بریلوی کی مسجد میں نماز پڑھنی پڑ جائے تو وہ لوگ پہلے توہمارے نماز پڑھنے پر اعتراض کرتے ہیں، دوسرا وہ اقامت بیٹھ کر سنتے ہیں تو اس بارے میں کیا کیا جائے؟ براہ کرم، رہنمائی فرمائیں۔
جواب
بسم الله الرحمن الرحيم Fatwa ID: 966-966/L=9/1437
اس کا بہتر حل یہ ہے کہ اگر قریب میں کوئی مسجد ہو جس کا امام متبع سنت ہو تو اس مسجد میں جاکر نماز ادا کی جائے، بریلویوں کی مسجد میں نماز ادا نہ کی جائے تاکہ ان کو اشکال نہ رہے، اگر مجبوراً کبھی ان کی مسجد میں نماز پڑھنے کی نوبت آجائے تو ان کے اعتراض کی پرواہ کئے بغیر اپنے طور پر نماز ادا کرلی جائے۔
واللہ تعالیٰ اعلم
دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند
دار الافتاء:دار الافتاء دار العلوم دیوبند
فتویٰ نمبر:65891
تاریخ فتویٰ:Jun 28, 2016
