اور حدیث شریف میں ’’أخبرني‘‘ فعل امر حکم کے معنی میں نہیں؛ بلکہ استدعاء کے لئے ہے؛ لہٰذا یہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ادب کے منافی نہیں ہے۔
أخبرني أي علمني وصیغۃ الأمر للاستدعاء لما تقرر أن الرسول أفضل من الملائکۃ العلویۃ۔ (مرقاۃ قدیم ۱؍۴۵، امدادیہ پاکستان ۱؍۵۱) فقط واللہ تعالیٰ اعلم
کتبہ: احقر محمد سلمان منصورپوری غفرلہ ۲۹؍۴؍۱۴۲۱ھ
الجواب صحیح: شبیر احمد عفا اللہ عنہ
ایمان و عقائد میں کیا فرق ہے
سوال
(۲):- کیا فرماتے ہیں علماء دین ومفتیان شرع متین مسئلہ ذیل کے بارے میں کہ: ایمان و عقائد میں کیا فرق ہے؟ایمان کامل کیسے ہو؟
باسمہٖ سبحانہ تعالیٰ
الجواب وباللّٰہ التوفیق: ایمان دل سے تصدیق کرنے کانام ہے، اِسی کو عرف میں عقیدہ سے تعبیر کیا جاتا ہے، اور ایمانِ کامل کا مطلب یہ ہے کہ آدمی تمام ایمانیات پر یقین کرنے کے سا تھ ساتھ اس کے تقاضوں پر عمل بھی کرے، یعنی تمام مامورات کو حتی الوسع بجالائے اور منہیات سے بچے۔
العقیدۃ:… ما عقد علیہ القلب واطمأن إلیہ۔ (معجم لغۃ الفقہاء ۳۱۸)
الإیمان لغۃ: ہو عبارۃ عن تصدیق کلام أحد تصدیقاً جازمًا ثقۃ بہ، واصطلاحاً: ہو التصدیق بکل ما أخبر بہ الرسول صلی اللّٰہ علیہ وسلم تصدیقًا محضًا بغیر مشاہدۃ، ثقۃً بہ ویقینًا علیہ۔ (الأحادیث المنتخبۃ في الصفات الست للدعوۃ إلی اللّٰہ تعالیٰ ۱ للشیخ محمد یوسف الکاندھلوی) فقط واللہ تعالی اعلم
کتبہ: احقر محمد سلمان منصورپوری غفرلہ ۲۷؍۲؍۱۴۳۵ھ
الجواب صحیح: شبیر احمد عفا للہ عنہ
’’لَا یُؤْمِنُ أَحَدُکُمْ الخ‘‘ سے کون سا ایمان مراد ہے؟
سوال
(۳):- کیا فرماتے ہیں علماء دین ومفتیانِ شرع متین مسئلہ ذیل کے بارے میں کہ: لَا یُؤْمِنُ أَحَدُکُمْ حَتّٰی یُحِبَّ لِأَخِیْہِ مَا یُحِبُّ لِنَفْسِہٖ (تم میں سے کوئی شخص اس وقت تک مؤمن نہیں ہوسکتا جب تک کہ اپنے بھائی کے لئے بھی وہی بات پسند نہ کرے جو اپنے لئے پسند کرتا ہے)سے کیا مراد ہے؟ اگر یہ کیفیت آدمی کے اندر پیدا نہ ہو، تو کیا ایمان معتبر نہیں ہے؟
باسمہٖ سبحانہ تعالیٰ
الجواب وباللّٰہ التوفیق: حدیث: ’’لاَ یُؤْمِنُ أَحَدُکُمْ حَتّٰی یُحِبَّ لِأَخِیْہِ مَا یُحِبُّ لِنَفْسِہٖ‘‘ میں نفس ایمان کی نفی نہیں ہے؛ بلکہ کمالِ ایمان کی نفی ہے؛ لہٰذا حدیث کا مطلب یہ ہوگا کہ جو شخص یہ کیفیت اپنے اندر نہ پائے تو وہ کمالِ ایمان کی ایک علامت سے محروم ہے؛ البتہ نفس ایمان سے اسے محروم قرار نہیں دیاجائے گا۔
والمراد بالنفي کمال الإیمان، فإن قیل: فیلزم أن یکون من حصلت لہ ہٰذہ الخصلۃ مؤمناً کاملاً، وإن لم یأت ببقیۃ الأرکان، أجیب بأن ہٰذا ورد مورد المبالغۃ، وقد صرح ابن حبان من روایۃ ابن أبي عدي عن حسین المعلم بالمراد ولفظہ: ’’لا یبلغ عبدٌ حقیقۃَ الإیمان‘‘، ومعنی الحقیقۃ ہنا: الکمال، ضرورۃ أن من لم یتصف بہٰذہ الصفۃ لا یکون کافراً۔ (فتح الباري، کتاب الإیمان / باب من الإیمان أن یحب لأخیہ ما یحب لنفسہ، ۱؍۷۹ رقم: ۱۳، فتح الملہم، کتاب الإیمان /باب الدلیل علی أن من خصال الإیمان أن یحب لأخیہ المسلم ما یحب لنفسہ من الخیر ۱؍۲۲۲، رقم ۴۵)
’’لا یؤمن أحدکم‘‘ إیماناً کاملاً فالمراد بنفیہ ہنا نفي بلوغ حقیقتہ ونہایتہ من قبیل خبر ’’لا یزني الزاني حین یزني وہومؤمن‘‘۔ (فیض القدیر بیروت ۶؍۵۴۴ تحت رقم: ۹۹۴۰)
قال العلماء رحمہم اللّٰہ: معناہ لا یؤمن الإیمان التام، وإلا فأصل الإیمان یحصل لمن لم یکن بہٰذہ الصفۃ، والمراد یحب لأخیہ من الطاعات والأشیاء
3 میں سے 250
المباحات، ویدل علیہ ما جاء في روایۃ النسائي في ہٰذا الحدیث: ’’حتی یحب لأخیہ من الخیر ما یحب لنفسہ‘‘… إذ معناہ لا یکمُل إیمان أحدکم حتی یحب لأخیہ في الإسلام مثل ما یحب لنفسہ۔ (المنہاج في شرح صحیح مسلم للنووي مکمل: کتاب الإیمان / باب الدلیل علی أن من خصال الإیمان أن یحب لأخیہ ما یحب لنفسہ من الخیر ۱۲۲، رقم: ۴۵ بیروت، نعمۃ المنعم ۱؍۲۷۷ البدر دیوبند) فقط واللہ تعالیٰ اعلم
املاہ: احقر محمد سلمان منصورپوری غفرلہ ۲۳؍۶؍۱۴۳۳ھ
الجواب صحیح: شبیر احمد قاسمی عفا اللہ عنہ
ایمان مخلوق ہے یا غیر مخلوق؟
سوال
(۴):- کیا فرماتے ہیں علماء دین ومفتیان شرع متین مسئلہ ذیل کے بارے میں کہ: ایمان مخلوق ہے یا نہیں؟ اس میں اقوال علماء دین کیا ہیں؟
باسمہٖ سبحانہ تعالیٰ
الجواب وباللّٰہ التوفیق: اہلِ سنت والجماعت کا عقیدہ ہے کہ ایمان بھی منجملہ مخلوقات خداوندی میں سے ہے، ائمۂ سمرقند کا موقف یہی ہے اس کے برخلاف ائمۂ بخاریٰ سے منقول ہے کہ وہ ایمان کو غیر مخلوق مانتے ہیں؛ لیکن در اصل یہ اختلاف ایمان کی تعریف کے اعتبار سے ہے، ائمۂ بخاریٰ ایمان کی تعریف اللہ تعالیٰ کی ہدایت سے کرتے ہیں، تو ایسی صورت میں یہ اللہ کی صفت ہونے کی وجہ سے غیر مخلوق قرار پائے گی، جبکہ ائمۂ سمرقند ایمان کو بندہ کا فعل قرار دیتے ہیں، تو اس اعتبار سے وہ یقینا مخلوق ہے، تو یہ اختلاف ایمان کی حقیقت میں اختلاف کی وجہ سے پیدا ہوا ہے۔
الإیمان غیر مخلوق عند أئمۃ بخاریٰ، وعند أئمۃ سمرقند مخلوق، وقیل:الاختلاف بینہم في الحقیقۃ؛ لأن البخاریین قالوا: الإیمان ہدایۃ الرب لعبدہ إلی معرفتہ، وذٰلک غیر مخلوق۔ والسمرقندیین قالوا: الإیمان فعل العبد، وإنہ مخلوق۔ (الفتاویٰ التاتارخانیۃ ۱۸؍۴ رقم: ۲۷۸۴۹ زکریا، ومثلہ في الفقہ الأکبر ۲۴۴)
قال في شرح العقائد النسفیۃ: واللّٰہ تعالیٰ خالق أفعال العباد کلہا من
ماخذ:
