بیٹوں اور بیٹیوں کے لیے میراث میں برابری کی وصیت کرنے کا حکم

سوال

میرے شوہر کا  سات سال پہلے انتقال ہوگیا ہے، 1983 میں میں نے ایک لاکھ تیس ہزار کا  مکان خریدا تھا، جس میں اڑتالیس ہزار روپے شوہر  نے دیے تھے، اور پچاسی ہزار میرے والد نے دیے تھے، میرے چھ بیٹے اور  تین بیٹیاں ہیں،بیٹیوں کی شادیاں میرے والد نے کروائی ہیں، میرے شوہرا ور بیٹوں نے ایک روپیہ بھی نہیں ملایا،اب میں اپنی زندگی میں یہ وصیت لکھ چکی ہوں کہ میری جو جائیداد ہے اس کا میری زندگی میں کوئی بھی مالک نہیں ہے، اس کی مالک میں خود ہوں ،میری وفات کے بعد مذکورہ جائیداد  میرے چھ بیٹوں اور تین بیٹیوں میں برابر تقسیم کی جائے گی،   یہ جو میں نے وصیت کی ہے آیاوہ شرعاً درست ہے یا نہیں  ؟

وضاحت : میرے والدین انتقال کرچکے ہیں، اور میرے بیٹےاس وصیت پر اعتراض کررہے ہیں، راضی نہیں ہیں۔

جواب

صورتِ  مسئولہ میں سائلہ نے  اپنی وفات کے بعد اپنی  مذکورہ جائیداد  کی اپنے بیٹوں اور بیٹیوں کے لئے  برابری کی تقسیم کی جو وصیت کی ہے وہ شرعاً معتبرنہیں ہے،کیوں کہ انتقال کے بعد ترکہ میراث کے اصول کے مطابق تقسیم کیا جاتا ہے،انتقال کرنے والے کی خواہش کے مطابق تقسیم نہیں کیا جاتا،البتہ اگر انتقال کے بعد تمام عاقل بالغ ورثاء اپنی مرضی وخوشی سے والدہ  کی خواہش کے مطابق تقسیم کرنا چاہیں تو اس کی اجازت ہوگی، اور اگر اس تقسیم پر راضی نہ ہوں تو  میراث کے اصول کے مطابق تقسیم کرنا ضروری ہوگا۔

حاصل  یہ کہ انتقال کے بعد اگر آپ کے تمام ورثاء اس وصیت کے مطابق تقسیم پر راضی نہ ہوں تو پھر میراث کے شرعی اصول کے مطابق تقسیم لازمی ہوگی۔جس میں ہر بیٹے کو دو حصے ملتے ہیں اور بیٹی کو ایک حصہ ملتا ہے۔

فتاوی ہندیہ میں ہے :

“ولا تجوز الوصية للوارث عندنا إلا أن يجيزها الورثة، ولو أوصى لوارثه ولأجنبي صح في حصة الأجنبي ويتوقف في حصة الوارث على إجازة الورثة إن أجازوا جاز وإن لم يجيزوا بطل ولا تعتبر إجازتهم في حياة الموصي حتى كان لهم الرجوع بعد ذلك، كذا في فتاوى قاضي خان.”

(کتاب الوصایا، الباب الأول في تفسير الوصية وشرط جوازها وحكمها، ج : 6، ص : 90، ط : رشیدیه)

فقط واللہ اعلم

فتویٰ نمبر : 144702100220

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن

 

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *