عورت اپنے دودھ کے ساتھ جانور کا دودھ یا ڈبہ کا دودھ یا پانی ملائے تو رضاعت کا حکم

سوال

اگر کسی عورت نے اپنے دودھ کے ساتھ ڈبے کا دودھ ملا کر کسی بچے کو پلایا تو کیا اس سے حرمت رضاعت ثابت ہوگی یا نہیں ؟نیز ڈبے کے دودھ کو ہم جانور(بکری وغیرہ)کے دودھ پر قیاس کریں  گے یا پانی پر؟تفصیلی جواب عنایت فرمائیں ۔

 

جواب

صورت ِ مسئولہ میں   عورت کے دودھ کے ساتھ ڈبہ کا دودھ یا کسی جانور کا دودھ یا پانی ملایا جائے تو اس صورت میں غالب کا اعتبار ہوگا ،اگر عورت کا دودھ غالب ہوگا تو رضاعت ثابت ہوجائے گی اور اگر عورت کا دودھ غالب نہ ہو بلکہ مغلوب ہو اور دیگر اشیاء غالب ہوں تو اس صورت میں رضاعت ثابت نہیں ہوگی ۔

فتاوی ہندیہ میں ہے :

“ولو خلط لبن المرأة بالماء أو بالدواء أو بلبن البهيمة فالعبرة للغالب كذا في الظهيرية. وكذا بكل مائع أو جامد كذا في النهر الفائق.”

(كتاب الرضاع،ج:1،ص:344،دارالفكر)

فقط والله أعلم

فتویٰ نمبر : 144701101419

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *