شک کی بنیاد پر رضاعت کا ثبوت

سوال

میں اپنی بیٹی کی شادی اپنے بھتیجے سے کرانا چاہ رہا ہوں، لیکن میری اہلیہ کا کہنا ہے کہ میں نے تقریبا 25 سال پہلے اس لڑکے کو جب اس کی عمر پانچ چھ مہینے تھی، اکیلے گھر میں روتا ہوا پایا، تو میں نے خاموش کرانے کے لیے اسے گود میں لیا اور اب مجھے اس بات کا شک ہے کہ میں نے اسے دودھ پلایا یا نہیں، اس بات کا محض شک ہے، یقین نہیں۔

دوسری طرف لڑکے کی والدہ اور دادی کا کہنا ہے کہ چھ سے آٹھ مہینے تک ہم نے اس بچے کو اکیلا چھوڑا ہی نہیں کہ کوئی اسے گود لیتا۔

اب سوال یہ ہے کہ محض اس شک کی بنیاد پر رضاعت ثابت ہوگی یا نہیں؟

جواب

صورتِ مسئولہ میں چوں کہ  آپ کی اہلیہ کو مذکورہ بچے سے متعلق صرف یہ شک ہے کہ انہوں نے اس بچے کو دودھ پلایا ہے، یقین نہیں ہے؛ اس لیے یہ رضاعت ثابت نہیں ہو گی؛ کیوں کہ شک کی بنیاد کی رضاعت ثابت نہیں ہوتی۔

فتح القدیر میں ہے:

“لو شك فيه بأن أدخلت الحلمة في فم الصغير وشكت في الارتضاع لا تثبت الحرمة بالشك.”

(كتاب الرضاع ، جلد : 3 ، صفحه : 439 ، طبع : دار الفكر)

فقط والله اعلم

فقط واللہ اعلم

فتویٰ نمبر : 144704101242

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *