سوال
میں ایک سرکاری ہسپتال میں ڈاکٹر ہوں۔ ہسپتال میں مفت دوائیں موجود ہیں، جو ہسپتال میں آنے والے مریضوں کو پرچی پر دیے جاتے ہیں۔ ہمارے علاقے میں زیادہ تر لوگ انتہائی غریب ہیں اور ادویات خریدنے کی استطاعت نہیں رکھتے۔ اگر میں ہسپتال سے ادویات لا کر انہیں دے دوں، تو اس کا شرعی اور قانونی حکم کیا ہے؟
جواب
صورتِ مسئولہ میں اگر ہسپتال کی انتظامیہ، مجاز عہدیداران یا سرکار کی طرف سے آپ کو یہ اجازت ہو کہ آپ مستحق افراد کے لیے رکھی گئی مفت دوائیاں اپنی صوابدید کے مطابق ضرورت مندوں تک مفت پہنچا سکتے ہیں، تو آپ کے لیے شرعاً ایسی دوائیاں اپنے علاقے کے مستحق لوگوں کے لیے لینا جائز ہوگا، بشرطیکہ واقعی آپ یہ دوائیاں ان مستحقین تک پہنچاتے ہو۔
لیکن اگر اس کی اجازت آپ کو نہ دی گئی ہو تو آپ کے لیے ایسی دوائیاں بلا اجازت لینا شرعاً بھی جائز نہیں ہوگا اور انتظامی طور پر بھی خلافِ ضابطہ شمار ہوگا۔
درر الحكام شرح مجلۃ الأحكام میں ہے:
“لا يجوز لأحد أن يتصرف في ملك الغير بلا إذنه هذه المادة مأخوذة من المسألة الفقهية (لا يجوز لأحد التصرف في مال غيره بلا إذنه ولا ولايته).”
(المقالة الثانية في بيان القواعد الكلية الفقهية، المادة:96، ج:1، ص:96، ط:دار الجيل بيروت)
فقط واللہ اعلم
