سوال
1۔ جب میّت ہوتی ہے تو اکثر علاقوں میں کچھ افراد کی کمیٹی ہوتی ہے، پھر وہ میّت کے کھانے کا انتظام کرتے ہیں۔ کمیٹی یا کچھ رشتے دار مہینے میں پیسے جمع کرتے ہیں اور پھر اس سے میّت کے گھر کے کھانے کا انتظام کیا جاتا ہے۔ کیا یہ حرام ہے یا جائز؟
2 ۔کسی کے گھر میں میّت ہو جائے تو میّت والوں کے گھر سے اگر کسی کے گھر کھانا بھیجا جائے تو کیا اسے کھانا جائز ہے؟
3 ۔اگر کسی شیعہ کے گھر سے روزانہ کھانا آئے یا محرم میں آئے تو اس کھانے کا کیا حکم ہے؟
4۔ اگر کسی کی ایک نماز قضا ہوجائے اور اسے قضا یاد آجائے تو کیا کرنا چاہیے؟
5۔ 10 محرم کا روزہ رکھا اور 11 محرم کا روزہ بھول گئے، کیا بھولے ہوئے روزے کو بعد میں رکھا جا سکتا ہے؟
6 ۔پرانے زمانے میں کسی نے قرآن پڑھا ہے، ان کا تلفّظ ٹھیک نہیں، اور وہ لوگ مدرسے میں جانا چاہتے ہیں لیکن گھر والے اجازت نہیں دیتے۔ تو کیا اس طرح قرآن پڑھنا، جیسا پہلے سے پڑھا ہوا ہے، جائز ہے؟
7۔ ایک شخص صبح بھی مدرسے جاتا ہے اور دوپہر کو بھی۔ دوپہر کی ٹائمنگ 2:00 بجے ہے، اور صبح مدرسے سے گھر جاتے ہوئے 1:45 بج جاتے ہیں۔ راستہ بھی لمبا ہے، اور اگر وہ پوری نماز پڑھ لے تو دوپہر کے مدرسے میں 2:00 کے بعد پہنچتا ہے۔ تو کیا وہ شخص وقت بچانے کے لیے کبھی صرف 4 رکعت فرض پڑھ لے اور سنتیں چھوڑ دے؟ کیا اس طرح صرف فرض پڑھنے اور سنتیں چھوڑنے میں گناہ ہے؟ کیونکہ روزانہ راستے میں اتنا وقت لگ جاتا ہے کہ 2:20 بج جاتے ہیں۔
جواب
1۔ میت کی تجہیز و تکفین کے لیے قائم کمیٹیوں کی شرعی حیثیت کی تفصیل درج ذیل ہے:
آج کل مختلف مقامات پر خاندان اور برادری میں میت کمیٹیاں بنانے کا رواج چل پڑا ہے، اس کمیٹی کا مقصد یہ ہوتا ہے کہ کمیٹی کے کسی ممبر کے گھر میں اگر خدانخواستہ موت کا سانحہ پیش آجائے تو اس کی تجہیزوتکفین کا خرچہ برداشت کیا جائے، نیز میت کے گھر والوں اور تعزیت کے لیے آئے مہمانوں کے لیے کھانے کا بندوبست کرنا بھی اسی کمیٹی کی ذمہ داری شمار ہوتی ہے، اس کمیٹی کا ممبر صرف ایک خاندان یا برادری یا محلے کے لوگوں کو بنایا جاتا ہے، ممبر بننے کے لیے شرائط ہوتی ہیں، مثلاً یہ کہ ہر ماہ یا ہر سال ایک مخصوص مقدار میں رقم جمع کرانا لازم ہے، اگر یہ رقم جمع نہ کرائی جائے تو ممبر شپ ختم کردی جاتی ہے، جس کے بعد وہ شخص کمیٹی کی سہولیات سے فائدہ نہیں اُٹھا سکتا، عام طور پر یہ کمیٹیاں دو طرح کے اخراجات برداشت کرتی ہیں:
1:…کفن و دفن کے اخراجات، یعنی کفن، قبرستان تک لے جانے کے لیے گاڑی اور قبر وغیرہ کا خرچہ۔
2:…میت کے اہلِ خانہ اور مہمانوں کے کھانے کا خرچہ۔
شرعی نکتہ نگاہ سے ان دونوں طرح کے اخراجات میں حسبِ ذیل تفصیل ہے:
میت کی تجہیز و تکفین کا خرچہ
جب کسی شخص کا انتقال ہوجائے تو اس کی تجہیز و تکفین اور تدفین کے اخراجات کے بارے میں شرعی حکم یہ ہے کہ اگر میت کا ذاتی مال موجود ہوتو اس کے کفن دفن کا خرچہ اسی میں سے کیا جائے گا۔ اگر اس کے ترکہ میں مال موجود نہیں تو اس کے یہ اخراجات اس شخص کے ذمہ ہوں گے جس پر اس کی زندگی میں مرحوم کا خرچہ واجب تھا، لہٰذا اگر میت کا باپ اور بیٹا دونوں زندہ ہوں تو کفن و دفن کے اخراجات بیٹے کے ذمہ ہوں گے، کیوں کہ جب کسی شخص کے پاس کوئی مال نہ ہواور اس کا باپ اور بیٹا دونوں موجود ہوں تواس کے اخراجاتِ زندگی بیٹے پر واجب ہوتے ہیں ،باپ پر نہیں، بیوی کا کفن دفن شوہر کے ذمہ لازم ہوتا ہے، اگرچہ اس کے پاس مال موجود ہو۔
اگر میت کے پس ماندگان میں ایسا کوئی شخص نہ ہو جس پر اس کا خرچہ واجب ہوتا ہے یا ایسا کوئی فرد موجود ہو، لیکن وہ خود اتنا غریب ہو کہ یہ خرچہ برداشت نہیں کرسکے تو تکفین و تدفین کی ذمہ داری حکومتِ وقت کی ہے، لیکن اگر حکومتِ وقت یہ خرچہ نہیں اُٹھاتی یا ان کے نظم میں ایسی کوئی صورت نہ ہو تو جن مسلمانوں کو اس کی موت کا علم ہے، ان پر اس کی تکفین و تدفین کا خرچہ واجب ہے، اگر جاننے والے بھی سب غریب ہیں تو پھر وہ لوگوں سے چندہ کرکے یہ اخراجات برداشت کریں اور جو رقم باقی بچے وہ دینے والے کو واپس کریں، اگردینے والے کا علم نہ ہو تو اس رقم کو سنبھال کر رکھیں، اور اگر دوبارہ اس طرح کی صورتِ حال پیش آئے تو اس کی تکفین و تدفین میں اُسے خرچ کریں۔
میت کے اہلِ خانہ کے لیے کھانے کا انتظام میت کے رشتہ داروں اور ہم سایوں کے لیے مستحب ہے کہ وہ میت کے اہلِ خانہ کے لیے ایک دن اور رات کے کھانے کا انتظام کریں، کیوں کہ میت کے اہلِ خانہ غم سے نڈھال ہونے اور تجہیز و تکفین میں مصروف ہونے کی وجہ سے کھانا پکانے کا انتظام نہیں کرپاتے،غزوۂ موتہ میں جب نبی کریم ﷺ کے چچا زاد بھائی حضرت جعفربن ابی طالب رضی اللہ عنہ شہید ہوئے اور ان کی وفات کی خبر آپ ﷺ تک پہنچی تو آپ ﷺ نے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے فرمایا کہ جعفر کے گھر والوں کے لیے کھانے کا بندوبست کرو ،کیوں کہ ان پرایسا شدید صدمہ آن پڑا ہے جس نے انہیں(دیگر اُمور سے )مشغول کردیا ہے۔
میت کے اہل خانہ کے علاوہ جو افراد دور دراز علاقوں سے میت کے اہلِ خانہ سے تعزیت اور تکفین و تدفین میں شرکت کے لیے آئے ہوں اگر وہ بھی کھانے میں شریک ہوجائیں تو ان کا شریک ہونا بھی درست ہے، تاہم تعزیت کے لیے قرب و جوار سے آئے لوگوں کے لیے میت کے ہاں باقاعدہ کھانے کا انتظام کرناخلافِ سنت عمل ہے۔
مروجہ انجمنوں اور کمیٹیوں کے بظاہر نیک اور ہم دردانہ مقاصد سے ہٹ کر کئی شرعی قباحتیں ہیں:
1:… کمیٹی کا ممبر بننے کے لیے ضروری ہے کہ ہر فرد، چاہے امیر ہو یا غریب، ہر ماہ ایک مخصوص رقم کمیٹی میں جمع کرے،اگر وہ یہ رقم جمع نہیں کراتا تو اُسے کمیٹی سے خارج کردیا جاتا ہے، پھر کمیٹی اس کو وہ سہولیات فراہم نہیں کرتی جو ماہانہ چندہ دینے والے ممبران کو مہیا کرتی ہے، اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اس کمیٹی کی بنیاد ’’امدادِ باہمی‘‘ پر نہیں، بلکہ اس کا مقصد ہرممبر کو اس کی جمع کردہ رقم کے بدلے سہولیات فراہم کرنا ہے، یہ سہولیات اس کی جمع کردہ رقم کی نسبت سے کبھی کم اور کبھی زیادہ ہوسکتی ہیں، یہ معاملہ واضح طور پر قمار (جوا)کے مشابہ ہونے کی وجہ سے ناجائز ہے۔
2:…کمیٹی کے ممبران میں سے بعض اوقات غریب و نادارلوگ بھی ہوتے ہیں، جو اتنی وسعت واستطاعت نہیں رکھتے کہ ماہانہ سو روپے بھی ادا کرسکیں، لیکن خاندانی یا معاشرتی رواداری کی خاطر یا لوگوں کی باتوں سے بچنے کے لیے وہ مجبوراً یہ رقم جمع کراتے ہیں، یوں وہ رقم تو جمع کرادیتے ہیں، لیکن اس میں خوش دلی کا عنصر مفقود ہوتا ہے، جس کی وجہ سے وہ مال استعمال کرنے والے کے لیے حلال طیب نہیں ہوتا، کیوں کہ حدیث شریف میں ہے کہ کسی مسلمان کا مال دوسرے مسلمان کے لیے صرف اس کی دلی خوشی اور رضامندی کی صورت میں حلال ہے۔
3:… بسااوقات اس طریقہ کار میں ضرورت مند اور تنگ دست سے ہم دردی اور احسان کی بجائے اس کی دل شکنی کی جاتی ہے اور اس کے ساتھ بدسلوکی کا رویہ برتا جاتا ہے، کیوں کہ خاندان کے جو غریب افراد کمیٹی کی ماہانہ یا سالانہ فیس نہیں بھر پاتے انہیں کمیٹی سے خارج کردیا جاتا ہے، اس طرح ان کی حاجت اور ضرورت کے باوجود اُنہیں اس نظم کا حصہ نہیں بنایا جاتا اور پھر موت کے غمگین موقع پر اُسے طرح طرح کی باتوں اور رویوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
4:… اس طریقہ کار میں کھانا کھلانا ایک عمومی دعوت کی شکل اختیار کرجاتا ہے، حال آں کہ مستحب یہ ہے کہ یہ انتظام صرف میت کے گھر والوں کے لیے ہو۔
خلاصہ کلام یہ ہے کہ اگر کسی کے ہاں میت ہوجائے تو مستحب یہ ہے کہ میت کے عزیز و اقارب و پڑوسی مل کر میت کے اہلِ خانہ کے لیے کھانے کا انتظام کریں، میت کی تجہیزو تکفین کے خرچہ کے لیے دیکھا جائے کہ اگر میت نے کچھ مال چھوڑا ہے توتجہیز و تکفین کا خرچہ اس کے مال میں سے کیا جائے اور اگر میت نے کسی قسم کا مال نہیں چھوڑا توجس شخص پر اس کا خرچہ واجب ہے، وہ یہ اخراجات برداشت کرے، اگر وہ نہیں کرپاتا تو خاندان کے مخیر حضرات کو چاہیے کہ وہ یہ اخراجات اپنے ذمے لے لیں، مروجہ کمیٹیوں کے قیام میں شرعاً کئی قباحتیں ہیں، اس سے اجتناب کیا جائے۔ البتہ اگرمندرجہ بالا قباحتوں سے اجتناب کرتے ہوئے رفاہی انجمن یا کمیٹی قائم کی جائے جس میں مخیر حضرات ازخود چندہ دیں، کسی فردکوچندہ دینے پر مجبور نہ کیا جائے تو اس کی گنجائش ہے، یہ انجمن یا کمیٹی خاندان کے لوگوں کی ضروریات کی کفالت کرے، بے روزگار افراد کے لیے روزگار ، غریب و نادار بچیوں کی شادی اور دیگر ضروریات میں ضرورت مندوں کی مدد کرے، ان امور کی انجام دہی کے ساتھ ساتھ اگریہ کمیٹی یا انجمن خاندان کے کسی فرد کی موت کے بعد اس کی تجہیز و تکفین پر آنے والے اخراجات بھی اپنے ذمہ لے تو یہ درست ہے۔
2۔اگر میّت کے ایصالِ ثواب کے لیے دن متعین کیے بغیر، اور یہ کھانا سوئم، چہلم، برسی وغیرہ کی رسم کا نہ ہو تو ایسی صورت میں میّت کے گھر کا کھانا کھانا جائز ہے۔
3۔واضح رہے کہ اہلِ تشیع محرم کے مہینے میں عموماً اہلِ بیتِ رسول ﷺ کے نام پر نذر و نیاز کرتے ہیں، اور غیر اللہ کے نام سے کوئی چیز بھی پکائی جائے وہ شرعاً حرام ہوتی ہے؛ کیوں کہ یہ “ما أهل به لغیر الله” میں داخل ہے؛ لہٰذا اس کے کھانے سے اجتناب لازم ہے۔باقی عام دونوں میں شیعہ کی طرف سےاگر کھاناگھر پر آئے تو اگر اس کھانے میں حرام اجزاء شامل نہ ہوں تو صرف اہل تشیع ہونے کی وجہ سے اس کا کھانا حرام نہیں ہوگا،اس کا کھانا کھاسکتے ہے۔
4۔اگر مذکورہ شخص صاحبِ ترتیب نہ ہو اور اس کی کوئی نماز قضا ہوجائے تو جیسے ہی قضا یاد آئے فوراً قضا نماز پڑھ لے۔
5۔عاشورہ کا روزہ رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے قول و عمل سے ثابت ہے، البتہ جب رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو بتلایا گیا کہ یہود شکرانہ کے طور پر عاشورہ کا روزہ رکھتے ہیں تو رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے آئندہ سال عاشورہ کے روزہ کے ساتھ نو محرم کو بھی روزہ رکھنے کی خواہش کا اظہار فرمایا تھا جس کی بنا پر فقہاءِ کرام نے عاشورہ کے ساتھ نو محرم کے روزہ کو مستحب قرار دیا ہے اور مشابہتِ یہود کی بنا پر صرف عاشورہ کا روزہ رکھنے کو مکروہِ تنزیہی قرار دیا ہے، تاہم اگر کسی بنا پر تین یا دو روزے رکھنا دشوار ہو تو صرف عاشورہ کا روزہ رکھ لینا چاہیے؛ تاکہ اس کی فضیلت سے محرومی نہ ہو۔ نیز حضرت علامہ انور شاہ کشمیری رحمہ اللہ فرماتے ہیں : عاشوراء کے روزہ کی تین شکلیں ہیں: (۱) نویں، دسویں اور گیارہویں تینوں کا روزہ رکھا جائے، (۲) نویں اور دسویں یا دسویں اور گیارہویں کا روزہ رکھا جائے، (۳) صرف دسویں تاریخ کا روزہ رکھا جائے۔ ان میں پہلی شکل سب سے افضل ہے، اور دوسری شکل کا درجہ اس سے کم ہے، اور تیسری شکل کا درجہ سب سے کم ہے، اور تیسری شکل کا درجہ جو سب سے کم ہے اسی کو فقہاء نے کراہتِ تنزیہی سے تعبیر کردیا ہے، ورنہ جس روزہ کو آپ ﷺ نے رکھا ہو اور آئندہ نویں کا روزہ رکھنے کی صرف تمنا کی ہو اس کو کیسے مکروہ کہا جاسکتا ہے۔
لہٰذا صورتِ مسؤلہ میں اگر کسی نے دس محرم کا روزہ رکھا اور گیارہ محرم کا روزہ بھول گیا تو اس کی قضا لازم نہیں ہوگی۔
6۔قرآن مجید کو درست تلفظ کے ساتھ پڑھنا ضروری ہے، اگر کوئی شخص قرآن میں ایسی غلطی کرتا ہے جس کی وجہ سے معنیٰ میں خلل آ جائے یا حروف کی ادائیگی صحیح نہیں کرے جس کی وجہ سے ایک حرف کی جگہ دوسرا حرف پڑھ لے یا حرکات کو تبدیل کر دے یا کسی حرف کو کھینچ کر پڑھنے کی وجہ سے کسی حرف کااضافہ کر دے تو اس کو علم التجوید کی اصطلاح میں لحنِ جلی کہتے ہیں اور اس غلطی کی وجہ سے پڑھنے والا گناہ گار ہوتا ہے، اور قصداً اس قسم کی غلطی کرنا حرام ہے، اس لیے قرآن کو درست تلفظ کے ساتھ پڑھنا نہایت ضروری ہے۔
لہٰذا صورتِ مسؤلہ میں اگر مذکورہ شخص کا قرآن پڑھنے کا تلفّظ صحیح نہیں ہے تو اسے چاہیے کہ گھر میں کسی قار ی صاحب سے قرآن کا تلفّظ اور ادائیگی سیکھے۔
7۔ واضح رہے کہ صرف فرض نماز پر اکتفا کرنا اور سنتِ مؤکدہ کو چھوڑ دینا درست نہیں۔ سنتِ مؤکدہ کااہتمام کرناواجب کے قریب ہے، بلاکسی عذر کے سنتِ مؤکدہ کاترک بھی جائز نہیں ہے، جوشخص بلاکسی عذر کے سنتِ مؤکدہ ترک کرتاہے وہ گناہ گار اور لائقِ ملامت ہے، اور اللہ تعالٰی کے یہاں درجات سے محروم ہے، اور رسول اللہ ﷺ کی شفاعت سے محرومی کا اندیشہ ہے، یہاں تک کہ فقہاءِ کرام فرماتے ہیں کہ اگر کوئی شخص ان سنتوں کو صحیح تو سمجھتا ہے، لیکن بلاعذر سنتِ مؤکدہ کو چھوڑنے کی عادت بنالیتا ہے تو یہ گناہ گار ہوگا، لیکن اگر کوئی شخص ان سنتوں کو حق نہ سمجھتے ہوئے چھوڑ دے تو یہ عمل انسان کو کفر تک پہنچادے گا،لہذا مذکورہ تفصیل کی رو سے صورتِ مسئولہ میں مذکورہ شخص کا صرف فرض نماز پڑھنا اور سنت مؤکدہ ترک کرنا جائز نہیں ہے،بلکہ فرض نماز کے ساتھ سنت مؤکدہ کے پڑھنے کا اہتمام کرنا بھی لازم ہے ،باقی سنتِ غیر مؤکدہ اور نوافل میں پڑھنے اور نہ پڑھنے میں اختیار ہے، اگر کوئی پڑھے گا تو اسے ثواب ملے گا اور نہ پڑھنے پر کوئی گناہ نہیں ہوگا، تاہم انہیں بالکل نہ پڑھنے کی عادت بنالینا بھی مناسب نہیں۔
فتاوی شامی میں ہے:
” ( یبدأ من ترکة المیت بتجهیزه) یعم التکفین (من غیر تقتیر ولا تبذیر ) ککفن السنة أو قدر ما کان یلبسه في حیاته.”
( کتاب الفرائض،ج: 7،ص:759 ، ط:سعید)
وفيه ايضاً
“( وکفن من لا مال له علٰی من تجب علیه نفقته) فإن تعددوا فعلی قدر میراثهم. و في الرد: (قوله: فعلی قدر میراثهم ) کما کانت النفقة واجبة علیهم فتح، أی فإنها علی قدر المیراث فلو له أخ لأم وأخ شقیق فعلی الأول السدس والباقي علی الشقیق. أقول: ومقتضی اعتبار الکفن بالنفقة أنه لو کان له ابن وبنت کان علیهما سویة کالنفقة إذ لایعتبر المیراث في النفقة الواجبة علی الفرع لأصله ولذا لو کان له ابن مسلم وابن کافر فهي علیهما ومقتضاه أیضاً أنه لو کان للمیت أب وابن کفنه الابن دون الأب کما في النفقة علی التفاصیل الآتیة في بابها إن شاء اللّٰه تعالی.”
( کتاب الصلاة، باب الجنائز، ج: 2،ص:206/205، ط:سعید )
وفيه ايضاً
“( وإن لم یکن ثمة من تجب علیه نفقته ففي بیت المال فإن لم یکن ) بیت المال معموراً أو منتظماً (فعلي المسلمین تکفینه ) فإن لم یقدروا سألوا الناس له ثوباً فإن فضل شیء رد للمصدق إن علم وإلا کفن به مثله وإلا تصدق به، مجتبی. وظاهره أنه لایجب علیهم إلا سؤال کفن الضرورة لا الکفایة ولو کان في مکان لیس فیه إلا واحد وذلک الواحد لیس له إلا ثوب لایلزمه تکفینه به. و في الرد: (قوله:فإن لم یکن بیت المال معموراً ) أی بأن لم یکن فیه شيء أو منتظماً أي مستقیمًا بأن کان عامراً ولایصرف مصارفه ط، (قوله: فعلي المسلمین ) أي العالمین به وهو فرض کفایة یأثم بترکه جمیع من علم به، ط ، (قوله: فإن لم یقدروا ) أي من علم منهم بأن کانوا فقراء، (قوله: وإلا کفن به مثله ) هذا لم یذکره في المجتبي، بل زاده علیه في البحر عن التنجیس و الواقعات، قلت: وفي مختارات النوازل لصاحب الهدایة: فقیر مات فجمع من الناس الدراهم وکفنون وفضل شیء إن عرف صاحبه یرد علیه وإلا یصرف إلى کفن فقیر آخر أو یتصدق به.”
( کتاب الصلاة، باب الجنائز، ج: 2،ص:206/205، ط:سعید )
وفيه ايضاً
” ولا بأس باتخاذ طعام لهم. و في الرد: (قوله: وباتخاذ طعام لهم ) قال في الفتح: ویستحب لجیران أهل المیت والأقرباء الأباعد تهیئة طعام لهم یشبعهم یومهم ولیلتهم.”
(کتاب الصلاة، باب الجنائز،ج:2،ص:240، ط:سعید)
وفيه ايضاً
“یکره اتخاذ الضیافة من الطعام من أهل المیت؛ لأنه شرع في السرور لا في الشرور وهي بدعة مستقبحة، وقوله: ویکره اتخاذ الطعام في الیوم الأول والثالث وبعد الأسبوع، ونقل الطعام إلی القبرفي المواسم، واتخاذ الدعوة لقراءة القرآن وجمع الصلحاء والقرّآء للختم أو لقراء ة سورة الإنعام أوالإخلاص.”
( کتاب الصلاة ، باب صلاة الجنازة، مطلب في كراهة الضیافة من أهل المیت،ج:2،ص:240،ط: سعيد)
فتاوی ہندیہ میں ہے:
“كل صلاة فاتت عن الوقت بعد وجوبها فيه يلزمه قضاؤها سواء ترك عمدا أو سهوا أو بسبب نوم وسواء كانت الفوائت كثيرة أو قليلة فلا قضاء على مجنون حالة جنونه لما فاته في حالة عقله كما لا قضاء عليه في حالة عقله لما فاته حالة جنونه ولا على مرتد ما فاته زمن ردته ولا على مسلم أسلم في دار الحرب ولم يصل مدة لجهله بوجوبها ولا على مغمى عليه ومريض عجز عن الإيماء ما فاته في تلك الحالة وزادت الفوائت على يوم وليلة ومن حكمه أن الفائتة تقضي على الصفة التي فاتت عنه لعذر وضرورة فيقضي مسافر في السفر ما فاته في الحضر من الفرض الرباعي أربعا والمقيم في الإقامة ما فاته في السفر منها ركعتين والقضاء فرض في الفرض وواجب في الواجب سنة في السنة ثم ليس للقضاء وقت معين بل جميع أوقات العمر وقت له إلا ثلاثة، وقت طلوع الشمس، ووقت الزوال، ووقت الغروب فإنه لا تجوز الصلاة في هذه الأوقات، كذا في البحر الرائق.”
(کتاب الصلاۃ، الباب الثاني في الأذان، الفصل الأول في صفة الأذان وأحوال المؤذن،ج: 1، صفحہ: 55، ط: دار الفکر)
العرف الشذی شرح سنن الترمذی میں ہے:
“وحاصل الشريعة: أن الأفضل صوم عاشوراء وصوم يوم قبله وبعده، ثم الأدون منه صوم عاشوراء مع صوم يوم قبله أو بعده، ثم الأدون صوم يوم عاشوراء فقط. والثلاثة عبادات عظمى، وأما ما في الدر المختار من كراهة صوم عاشوراء منفرداً تنزيهاً، فلا بد من التأويل فيه أي أنها عبادة مفضولة من القسمين الباقيين، ولا يحكم بكراهة؛ فإنه عليه الصلاة والسلام صام مدة عمره صوم عاشوراء منفرداً، وتمنى أن لو بقي إلى المستقبل صام يوماً معه.”
(كتاب الصوم،باب ما جاء في الحث على صوم يوم عاشوراء،177/2،ط:دار التراث العربي)
شرح طیبۃ النشر لابن الجزری میں ہے:
“والأخذ بالتّجويد حتم لازم … من لم يصحّح القرآن آثم
أي القراءة والإقراء بالتجويد: وهو انتهاء الغاية في التصحيح وبلوغ النهاية في التحسين، من جوّد فلان كذا: أي فعله جيدا، وهو ضد قوله: رديئا، فلذلك كان عندهم عبارة عن الإتيان بالقراءة مجودة اللفظ بريئة من الرداءة في النطق وذلك واجب على من يقدر؛ لأن الله تعالى أنزل به كتابه المجيد ووصل من نبيه عليه الصلاة والسلام متواترا بالتجويد قوله: (من لم يصحح القرآن) أي من لم يصحح القرآن مع قدرته على ذلك فهو آثم عاص بالتقصير غاشّ لكتاب الله تعالى على هذا التقدير. وقال صلى الله عليه وسلم «الدين النصيحة لله ولكتابه ولرسوله» (1) الحديث وقال عليه الصلاة والسلام «إن الله يحب أن يقرأ القرآن كما أنزل.”
(مبحث التجوید، صفحہ نمبر 35، طبع: دار الكتب العلمية – بيروت)
ا لمیزان فی احکام تجوید القرآن میں ہے:
“اللحن الجلي:
لغة: الخطأ الظاهر الواضح واصطلاحا: هو خطأ يطرأ علي اللفظ فيخل بعرف القراءة ومبني الكلمة سواء ترتب علي ذلك إخلال بالمعني أو لم يترتب … إلا إذا كان متعمدا فيحرم بالإجماع۔”
(علم التجوید، صفحہ نمبر 30، طبع: دار الإيمان – القاهرة)
فتاوی شامی میں ہے:
“(وسن) مؤكدًا (أربع قبل الظهر و) أربع قبل (الجمعة و) أربع (بعدها بتسليمة) فلو بتسليمتين لم تنب عن السنة، ولذا لو نذرها لايخرج عنه بتسليمتين، وبعكسه يخرج (وركعتان قبل الصبح وبعد الظهر والمغرب والعشاء) شرعت البعدية لجبر النقصان، والقبلية لقطع طمع الشيطان.
(قوله: وسن مؤكدًا) أي استنانًا مؤكدًا؛ بمعنى أنه طلب طلبًا مؤكدًا زيادةً على بقية النوافل، ولهذا كانت السنة المؤكدة قريبةً من الواجب في لحوق الإثم، كما في البحر، ويستوجب تاركها التضليل واللوم، كما في التحرير: أي على سبيل الإصرار بلا عذر، كما في شرحه”
(کتاب الصلاۃ، باب الوتر والنفل، ج:2، ص:13/12 ط،سعید)
فتاوی شامی میں ہے :
“ترك السنن، إن رآها حقًّا أثم، وإلا كفر”.
(کتاب الصلاۃ، باب الوتر والنفل، ج:2، ص:21 ط،سعید)
فقط واللہ اعلم
