سوال
اسلام میں عورتوں کو زیادہ سے زیادہ گھر میں رہنے کا حکم ہے، کیا ایک لڑکی دینی علوم سیکھنے کے لیے باہر نکل سکتی ہے؟ مدرسہ جا سکتی ہے؟ یا اس پر بھی اسے گناہ ملے گا؟
جواب
اسلام نے عورتوں کو وقار، عفت اور حیا کے ساتھ زندگی گزارنے کی ترغیب دی ہے، اور عمومی طور پر انہیں گھریلو زندگی کو ترجیح دینے کا مشورہ دیا گیا ہے، تاہم یہ کوئی ایسی پابندی نہیں جو ہر حال میں گھر سے باہر نکلنے کو ممنوع قرار دے، شریعت کا اصل مقصد فتنے سے بچاؤ اور پاکیزہ ماحول کی حفاظت ہے، نہ کہ عورت کی دینی تعلیم یا اصلاحی ترقی میں رکاوٹ ڈالنا،چنانچہ مردوں کے لیے جس طرح زندگی میں آنے والی حالتوں کے لیے شرعی احکام کا سیکھنا ضروری ہے، اسی طرح عورتوں کے لیے بھی دینی احکام کا سیکھنا اور جاننا ضروری ہے ، اگر گھر میں ایسا دینی ماحول ہو کہ گھر میں رہ کر یہ ضرورت پوری ہوجائے تو انہیں گھر میں ہی علم دین کی تعلیم دی جائے اور وہ اپنے اہل علم والد، بھائی یا شوہر وغیرہ سے علم حاصل کرلیں، لیکن گھر میں رہ کر دین کے بنیادی احکام اور عورتوں کو مختلف حالتوں میں پیش آنے والے شرعی احکام سیکھنا مشکل ہو تو مندرجہ ذیل شرائط کے ساتھ مدارس میں تعلیم حاصل کرنے کی اجازت ہے:
(1)پردے کا مکمل اہتمام ہو۔
(2)نامحرم کے ساتھ اختلاط نہ ہو۔
(3)خواتین معلمات کے ذریعے ہی تعلیم کا اہتمام ہو۔
(4)بصورتِ مجبوری مرد اساتذہ تعلیم دیں تو درمیان میں پردہ حائل ہو اور خلوت وتنہائی نہ ہو
(5)مدرسے میں آمد و رفت کے لیے پر امن نظم ہو، اور اس میں فتنے کا احتمال نہ ہو۔
(6)مدرسے کے لیے آمد و رفت محدود وقت کے لیے بقدرِ ضرورت ہو۔
بخاری شریف میں ہے:
“عن أبي سعيد الخدري قالت النساء للنبي صلى الله عليه وسلم: غلبنا عليك الرجال، فاجعل لنا يوما من نفسك، فوعدهن يوما لقيهن فيه، فوعظهن وأمرهن…إلخ”
ترجمه:”حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ عورتوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا: “یا رسول اللہ! آپ پر مردوں نے غلبہ حاصل کر لیا ہے (ہم آپ سے علم دین حاصل نہیں کر پاتیں)، تو ہمارے لیے بھی کوئی دن مقرر فرما دیں (تاکہ ہم الگ آپ سے دین سیکھ سکیں)،چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے ایک دن کا وعدہ فرما لیا، پھر اس دن ان کے پاس تشریف لائے، انہیں نصیحت فرمائی اور دینی احکام ارشاد فرمائے… الخ“
(كتاب العلم، باب هل يجعل للنساء يوم على حدة في العلم، ج: 1، ص: 50، ط: دار ابنِ كثير)
سنن ترمذی میں ہے:
“عن عبد الله عن النبي صلى الله عليه وسلم، قال: المرأة عورة، فإذا خرجت استشرفها الشيطان.”
ترجمه:”حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی کہ آپﷺ نے فرمایا: ’’عورت چھپانے کی چیز ہے، جب وہ گھر سے باہر نکلتی ہے تو شیطان اس کی تانک جھانک میں لگ جاتا ہے(اور راستہ پر گزرتے ہوئے لوگوں کو اس کی طرف متوجہ کرنے کی کوشش کرتاہے)۔”
(أبواب الرضاع، باب ما جاء في كراهية أن تسافر المرأة وحدها، ج: 3، ص: 468، ط: مصطفى البابي الحلبي)
حاشیۃ السندی علی الترمذی میں ہے:
“قلنا: قال السيوطي في معناه: أي: يراها من أعلى ما يفتن به الناس، ودعا الناس إلى التشرف إليها، أي: التطلع.”
(أبواب الرضاع، باب ما جاء في كراهية أن تسافر المرأة وحدها، ج: 2، ص: 179، ط: دار الكتب العلمية)
الموسوعۃ الفقھیۃ الکویتیۃ میں ہے:
“للمرأة حق التعليم مثل الرجل:فقد قال النبي صلى الله عليه وسلم: طلب العلم فريضة على كل مسلم. وهو يصدق على المسلمة أيضا، فقد قال الحافظ السخاوي: قد ألحق بعض المصنفين بآخر هذا الحديث (ومسلمة) وليس لها ذكر في شيء من طرقه وإن كان معناها صحيحا.
وقال النبي صلى الله عليه وسلم: من كانت له بنت فأدبها فأحسن أدبها، وعلمها فأحسن تعليمها، وأسبغ عليها من نعم الله التي أسبغ عليه كانت له سترا أو حجابا من النار.
وقد كان النساء في زمن النبي صلى الله عليه وسلم يسعين إلى العلم.روى البخاري عن أبي سعيد الخدري قال: قالت النساء للنبي صلى الله عليه وسلم: غلبنا عليك الرجال فاجعل لنا يوما من نفسك، فواعدهن يوما لقيهن فيه فوعظهن وأمرهن.
وعن عائشة رضي الله تعالى عنها قالت: نعم النساء نساء الأنصار لم يمنعهن الحياء أن يتفقهن في الدين.وقال النبي صلى الله عليه وسلم: مروا أولادكم بالصلاة وهم أبناء سبع سنين، واضربوهن عليها وهم أبناء عشر، وفرقوا بينهم في المضاجع.
قال النووي: والحديث يتناول بمنطوقه الصبي والصبية، وأنه لا فرق بينهما بلا خلاف….. وإذن، فلا خلاف في مشروعية تعليم الأنثى. لكن في الحدود التي لا مخالفة فيها للشرع وذلك من النواحي الآتية:
أ – أن تحذر الاختلاط بالشباب في قاعات الدرس، فلا تجلس المرأة بجانب الرجل، فقد جعل النبي صلى الله عليه وسلم للنساء يوما غير يوم الرجال يعظهن فيه. بل حتى في العبادة لا يخالطن الرجال، بل يكن في ناحية منهم يستمعن إلى الوعظ ويؤدين الصلاة، ولا يجب استحداث مكان خاص لصلاتهن، أو إقامة حاجز بين صفوفهن وصفوف الرجال.
ب – أن تكون محتشمة غير متبرجة بزينتها لقول الله تعالى: {ولا يبدين زينتهن إلا ما ظهر منها} وفي اتباع ذلك ما يمنع من الفتنة ومن إشاعة الفساد.”
(حرف الألف، أنوثة، أحكام الأنوثة، ثانياالحقوق التي تتساوى فيها مع الرجل، حق التعليم، ج: 7، ص: 76، ط: دار السلاسل)
احیاءعلوم الدین میں ہے:
“فإن كان الرجل قائما بتعليمها فليس لها الخروج لسؤال العلماء وإن قصر علم الرجل ولكن ناب عنها في السؤال فأخبرها بجواب المفتي فليس لها خروج فإن لم يكن ذلك فلها الخروج للسؤال بل عليها ذلك ويعصي الرجل بمنعها.”
(كتاب آداب النكاح، ج: 2، ص: 48، ط: دار المعرفة)
فقط والله أعلم
