سوال
میں نے ایک انگریزی فکشن ناول خریدا جس میں سیریا کے شہر ہومس میں مسلمانوں پر ہونے والے مظالم کی منظر کشی کی گئی ہیں ، خریدتے وقت مجھے معلوم نہ تھا کہ اس میں کچھ نازیبا مواد بھی ہوگا۔
کیا ایسی کتاب کو پڑھنا درست ہوگا؟ کیا اب میں اس کتاب کواسی دکاندار یا کسی اور دکاندار کو فروخت کر سکتی ہوں یانہیں؟
جواب
صورت مسئولہ میں جو ناول خرید چکی ہیں اس میں فحش مواد کا پڑھنا جائز نہیں ہے اور اگر جائز مواد کو پڑھنے سے لامحالہ فحش مواد بھی پڑھنا پڑھتا ہو تو پھر پورے ناول کو ہی پڑھنا جائز نہیں ہے۔ایسا ناول جوفحش مواد پر مشتمل ہو اس کا خریدنا جائز نہیں ہے اس لیے دوکاندار کو واپس کردیا جائے اور اگر وہ واپس نہ لے تو پھر ضائع کریا جائے۔
قرآن کریم میں ہے:
“وَ مِنَ النَّاسِ مَنْ یَّشْتَرِیْ لَهْوَ الْحَدِیْثِ لِیُضِلَّ عَنْ سَبِیْلِ اللّٰهِ بِغَیْرِ عِلْمٍ ﳓ وَّ یَتَّخِذَهَا هُزُوًاؕ-اُولٰٓىٕكَ لَهُمْ عَذَابٌ مُّهِیْنٌ.”
اور کچھ لوگ کھیل کی باتیں خریدتے ہیں تاکہ بغیر سمجھے الله کی راہ سے بہکادیں اورانہیں ہنسی مذاق بنالیں ۔ان کے لیے ذلت کا عذاب ہے۔
(سورة لقمان6)
معارف القرآن(ازکاندھلویؒ)میں ہے:
”غرض یہ کہ اس آیت میں لہوالحدیث سےقصےکہانیاں اورگانےبجانے کاسامان مرادہے جیسے باجااوربانسری اورموسیقی اورستاراورسارنگی اورخرافات اورمضحکہ خیز باتیں اورافسانہ جات اورگانے بجانے والی لڑکیاں یہ سب چیزیں لہوالحدیث کے عموم میں داخل ہیں اوریہ سب چیزیں باجماع صحابہ وتابعین وباتفاق آئمہ مجتہدین حرام ہیں ۔۔۔۔۔۔جانناچاہیئے کہ ہفوات اورخرافات اورناولوں اورافسانوں کاپڑھنابلاشبہ حرام ہے۔۔۔الخ“۔
(سورۃ لقمان، ج:6، ص:174، ط:المعارف)
معارف القرآن (ازمفتی شفیعؒ)میں ہے:
”اس زمانے میں بیشترنوجوان فحش ناول یاجرائم پیشہ لوگوں کے حالات پرمشتمل قصے یافحش اشعاردیکھنے کے عادی ہیں ،یہ سب چیزیں اسی قسم لہوحرام میں داخل ہیں،اسی طرح گمراہ اہل باطل کے خیالات کامطالعہ بھی عوام کےلئے گمراہی کاسبب ہونے کی وجہ سےناجائزہے“۔
(سورۃ لقمان، ج:7، س:23، ط:معارف القرآن کراچی)
فقط واللہ اعلم
