سوال
میرے والد صاحب کا انتقال 25مئی 2025کو ہوا،اس سے قبل نو سال تک وہ بیماری کی حالت میں رہے، ان نو سال میں انھوں نے نمازیں نہیں پڑھیں اور نہ ہی روزے رکھے،اب ان قضا نمازوں اور روزں کا کتنا فدیہ ہے؟ شرعا اس کے ادا کرنے کا کیا حکم ہے؟
جواب
نمازوں اور روزوں کی فدیہ کی ادائیگی کے لازم ہونے کا مدار اس بات پر ہے کہ مرحوم نے فدیہ دینے کی وصیت کی ہو، اور اپنے پیچھے مال بھی چھوڑا ہو، پس اگر مرحوم نے وصیت ہی نہ کی ہو، یا وصیت تو کی ہو، مگر مال نہ چھوڑا ہو تو ورثاء پر وصیت پر عمل کرنا لازم نہیں ہوتا، لہذا صورت مسئولہ میں سائل کے والد مرحوم نے اگر نمازوں اور روزوں کے فدیہ کی ادائیگی کی وصیت کی ہو، اور اپنے پیچھے مال بھی چھوڑا ہو ،تو وراثت کی تقسیم سے قبل مرحوم کے ترکہ کے ایک تہائی حصہ سے مرحوم کی وصیت پوری کرنا ورثاء پر لازم ہوگا، پس اگر مرحوم کا فدیہ ایک تہائی سےکم میں ادا ہو جائے تو بقیہ رقم مرحوم کے ترکہ میں شامل کر کے ان کے ورثاء میں حصص شرعیہ کے تناسب سے تقسیم کر دی جائے گی، اور اگر مرحوم کا فدیہ ایک تہائی ترکہ سے ادا نہ ہوتا ہو تو فقط ایک تہائی ترکہ سے وصیت پوری کی جائے گی، اس سے زائد حصہ سے فدیہ ادا کرنا ورثاء پر لازم نہیں ہوگا، البتہ اگر تمام ورثاءبالغ ہوں اور برضا و خوشی ترکہ سے مکمل فدیہ ادا کریں تو اس کی اجازت ہوگی، تاہم اگر ورثاءمیں سے اگر کوئی نابالغ ہو یا ایک تہائی ترکہ سے زائد حصہ سے فدیہ ادا کرنے کو تیار نہ ہو،تو ایسے ورثاء کے حصہ میں کمی کرنے کی شرعاًاجازت نہ ہوگی، ہاں جو ورثا راضی ہوں ان کے حصوں سے مرحوم کی نمازوں اور روزوں کا فدیہ ادا کر دیا جائے گا۔
اسی طرح اگر مرحوم نے وصیت ہی نہ کی ہو، یا وصیت کی ہو، مگر مال نہ چھوڑا ہو، تو ان دونوں صورتوں میں ورثاء پر مرحوم کی نمازوں اور روزوں کا فدیہ ادا کرنا لازم نہیں ہوگا، البتہ اگر وہ باہمی رضامندی سے ادا کرنا چاہیں، یا کوئی وارث خود ادا کرنا چاہے، تو کر سکتا ہے، اور یہ اس کی طرف سے والد مرحوم پر احسان ہوگا، جس کا اسے ثواب ملے گا، اور والد کی اگلی منزل آسان ہوگی۔
ایک روزے کا فدیہ ایک صدقہ فطر کے برابر ہے، اور ایک نماز کا فدیہ بھی ایک صدقہ فطر کے برابر ہے، اور روزانہ وتر کے ساتھ چھ نمازیں شمار کر کے چھ فدیے دیے جائیں گے، ایک صدقہ فطر تقریباً پونے دو کلو گندم یا اس کاآٹا یا اس کی موجودہ قیمت ہے۔
اور فدیہ اس شخص کودیاجاسکتا ہے جس کو زکوۃ دیناجائز ہو، یعنی مسلمان فقیر جو سید اور ہاشمی نہ ہو اور صاحبِ نصاب بھی نہ ہو ، لہذا اگر ورثاء مرحوم کی نمازوں اور روزوں کا فدیہ اداکرنا چاہیں تو مذکورہ طریقے پر ادا کرسکتے ہیں۔ صاحبِ نصاب نہ ہو سے مراد وہ شخص ہے جس کے پاس اس کی ضرورت و استعمال سے زائد کسی بھی قسم کا اتنا مال یا سامان موجود نہ ہو جس کی قیمت ساڑھے باون تولہ چاندی کی مالیت تک پہنچتی ہو۔
لہذا مسئولہ صورت میں سائل کے والد کی نو سال کی کل نمازوں اور کل روزوں کا حساب کرکے تفصیل بالا کے مطابق حساب کر لے۔
فتاوی شامی میں ہے:
“(ولو مات وعليه صلوات فائتة وأوصى بالكفارة يعطى لكل صلاة نصف صاع من بر) كالفطرة(وكذا حكم الوتر) والصوم، وإنما يعطي (من ثلث ماله)
(قوله: يعطى) بالبناء للمجهول: أي يعطي عنه وليه: أي من له ولاية التصرف في ماله بوصاية أو وراثة فيلزمه ذلك من الثلث إن أوصى، وإلا فلا يلزم الولي ذلك لأنها عبادة فلا بد فيها من الاختيار، فإذا لم يوص فات الشرط فيسقط في حق أحكام الدنيا للتعذر، بخلاف حق العباد فإن الواجب فيه وصوله إلى مستحقه لا غير، ولهذا لو ظفر به الغريم يأخذه بلا قضاء ولا رضا، ويبرأ من عليه الحق بذلك إمداد.
ثم اعلم أنه إذا أوصى بفدية الصوم يحكم بالجواز قطعا لأنه منصوص عليه. وأما إذا لم يوص فتطوع بها الوارث فقد قال محمد في الزيادات إنه يجزيه إن شاء الله تعالى، فعلق الإجزاء بالمشيئة لعدم النص، وكذا علقه بالمشيئة فيما إذا أوصى بفدية الصلاة لأنهم ألحقوها بالصوم احتياطا لاحتمال كون النص فيه معلولا بالعجز فتشمل العلة الصلاة وإن لم يكن معلولا تكون الفدية برا مبتدأ يصلح ماحيا للسيئات فكان فيها شبهة كما إذا لم يوص بفدية الصوم فلذا جزم محمد بالأول ولم يجزم بالأخيرين، فعلم أنه إذا لم يوص بفدية الصلاة فالشبهة أقوى.
واعلم أيضا أن المذكور فيما رأيته من كتب علمائنا فروعا وأصولا إذا لم يوص بفدية الصوم يجوز أن يتبرع عنه وليه. والمتبادر من التقييد بالولي أنه لا يصح من مال الأجنبي. ونظيره ما قالوه فيما إذا أوصى بحجة الفرض فتبرع الوارث بالحج لا يجوز، وإن لم يوص فتبرع الوارث إما بالحج بنفسه أو بالإحجاج عنه رجلا يجزيه. وظاهره أنه لو تبرع غير الوارث لايجزيه، نعم وقع في شرح نور الإيضاح للشرنبلالي التعبير بالوصي أو الأجنبي فتأمل، وتمام ذلك في آخر رسالتنا المسماة شفاء العليل في بطلان الوصية بالختمات والتهاليل.”
(باب قضاء الفوائت، ج:1، ص:2، ط:ايج ايم سعيد)
فقط والله أعلم
