۴ باب بیوع الأوقاف
وقف کی زمین فروخت کرنا
سوال ]۷۶۷۶[: کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیانِ شرع متین مسئلہ ذیل کے بارے میں : کہ حاجی کلن مرحوم ساکن گل شہید مرادآباد نے اپنی حیات میں خرید کردہ و تعمیرکردہ جائیداد کو ۱۹۳۲ء و ۱۹۳۵ء میں وقف علی الاولاد و علی الخیر کیا جس کی عبارت کو دونوں وقف ناموں میں اس طرح درج کیا گیا ہے:
وقف کیا میں نے اور جائیداد ہائے موقوفہ کو اپنے قبضہ و ملکیت سے نکال کر اللہ جل شانہ کے قبضہ اور ملکیت میں دیدیا میں نے اور آج کی تاریخ سے ہی میرا کوئی وارث یا جانشین مالک ان جائیدادوں کا نہیں رہا، اور وہ تمام جائیداد ملکیت اللہ جل شانہ میں داخل ہو گئیں اور اثر زوال سے محفوظ ہو گئیں ، اور اب یا آئندہ مجھ کو یا میرے وارثان کو جائیداد ہائے موقوفہ کے جز یا کل کو یا ان کی آمدنی کو بذریعۂ بیع یا ہبہ، رہن دخلی یا ضمانت بکفالت یا بالعوض دین مہر یا کسی اور طریقہ پر منتقل کا یا کسی مطالبہ کے زیر بار کرنے کا حق اور اختیار نہیں رہا۔
اس وقت جائیدادہائے موقوفہ کی آمدنیٔ کرایہ وارثان شرعی کو کم آمدنیٔ کرایہ ہونے کی وجہ سے کم مل رہا ہے ایسی حالت میں ورثاء اور متولیان اس نتیجہ پر پہنچے ہیں کہ کیوں نہ ان تمام وقف جائیداد کو فروخت کرکے جدید جائیداد خرید کر زیادہ سے زیادہ کرایہ پر دی جائے خرید کردہ جائیداد کو وقف ناموں کے مطابق اس پر عمل کیا جائے، تا کہ ورثاء کو زیادہ سے زیادہ آمدنیٔ کرایہ حاصل ہو اور اس کے مطابق مصارف خیرمیں خرچ کیا جائے، لہٰذا متولی یا کوئی بھی وارث اس کام کو شرعاً یا اخلاقاً کرسکتا ہے یا نہیں ؟ وضاحت سے جواب تحریر فرمائیں ۔
المستفتی: عبد الرحمن سرائے شیخ محمود مرادآباد
3 میں سے 424
الجواب وباللّٰہ التوفیق: محض آمدنی کم ملنے کی وجہ سے وقف کی جائیداد فروخت کرکے دوسری جائیداد لینے کی شرعاً اجازت نہیں ہے جو کچھ مل رہا ہے اس پر قناعت کرکے وقف کی جائیداد کو اپنی جگہ باقی رکھنا لازم ہے۔
والثالث أن لایشرطہ أیضا ولکن فیہ نفع فی الجملۃ، وبدلہ خیر منہ ریعا و نفعا وہذا لایجوز استبدالہ علی الأصح المختار۔ (شامی، کتاب الوقف، مطلب: فی استبدال الوقف وشروطہ، کراچی ۴/۳۸۴، زکریا ۶/۵۸۴) فقط واﷲ سبحانہ وتعالیٰ اعلم
کتبہ: شبیر احمد قاسمی عفا اﷲ عنہ
۱۱؍ محرم الحرام ۱۴۱۷ھ
(الف فتویٰ نمبر: ۳۲/۴۶۰۲)
زیادتی ٔآمدنی کی غرض سے وقف کی زمین فروخت کرنا
سوال ]۷۶۷۷[: کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیانِ شرع متین مسئلہ ذیل کے بارے میں : اگر کوئی زمین یا مکان کسی مدرسہ یا مسجد کے لیے وقف کی گئی جس سے وقف کرنے والے کا مقصد صدقۂ جاریہ ہے اور اس سے بذریعۂ کاشت یا کرایہ آمدنی بھی ہورہی ہے لیکن اگر اس کو فروخت کرکے اس رقم سے کسی دوسری جگہ اچھی کوئی مکان یا دوکان بنا کر اس کو کرایہ پر چڑھایا جائے تا کہ پہلے کے مقابلے پر آمدنی زائد حاصل ہو سکے، یا پھر اس رقم سے اسی مسجد میں کوئی درسگاہ یا کمرہ اور اسی مسجد کا کوئی حصہ بنادیا جائے، تاکہ وقف کرنے والے کا مقصد صدقۂ جاریہ بھی پورا ہوسکے، اور آمدنی بھی بڑھ جائے یا مدرسہ اور مسجد کی ضرورت بھی پوری ہو جائے، اس مقصد سے اس موقوفہ جائیداد کو فروخت کرنا جائز ہے یا نہیں ؟
المستفتی: عبد الرحیم روڑکی
باسمہ سبحانہ تعالیٰ
الجواب وباللّٰہ التوفیق: سوالنامہ میں درج شدہ صورت میں موقوفہ زمین
3 میں سے 425
والثالث أن لایشرطہ أیضا ولکن فیہ نفع فی الجملۃ، وبدلہ خیر منہ ریعا و نفعا وہذا لایجوز استبدالہ علی الأصح المختار۔ (شامی، کتاب الوقف، مطلب: فی استبدال الوقف وشروطہ، کراچی ۴/۳۸۴، زکریا ۶/۵۸۴)
(وقولہ) بل اتفق أنہ أمکن أن یؤخذ بثمنہ ما ہو خیر منہ مع کونہ منتفعا بہ فینبغی أن لایجوز لأن الواجب إبقاء الوقف علی ما کان علیہ دون زیادۃ۔ (شامی کوئٹہ ۳/۴۲۷، کراچی ۴/۳۸۸، زکریا ۶/۵۸۹، فتح القدیر، مطبوعہ دار الفکر لبنان ۶/۲۲۸، کوئٹہ ۵/۴۴۰، زکریا ۶/۲۱۲)فقط واﷲ سبحانہ وتعالیٰ اعلم
کتبہ: شبیر احمد قاسمی عفا اﷲ عنہ
۱۰؍ جمادی الثانی ۱۴۰۸ھ
(الف فتویٰ نمبر: ۲۴/۷۵۰)
ناقابل انتفاع موقوفہ زمین کو بیچ کر قابل انتفاع زمین خریدنا
سوال ]۷۶۷۸[: کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیانِ شرع متین مسئلہ ذیل کے بارے میں : مسماۃ میمونہ نے اپنی حیات میں تقریبا اپنی چار بیگھہ زمین مدرسہ رحمانیہ ٹانڈہ بادلی کے نام وصیت کردی تھی، مدرسہ اب تک اس پر قابض بھی ہے لیکن اس زمین کے قرب و جوار کے لوگوں سے اس زمین پر قابض ہونے کا سخت خطرہ ہے، وہ زمین فی الحال انہیں لوگوں کی کرایہ داری میں ہے، لیکن مدرسہ رحمانیہ کو کرایہ کے نام پر کوئی پیسہ نہیں دیتے ہیں ، اب اس زمین کے مدرسہ کے قبضہ سے نکلنے کے خطرہ کے ساتھ ساتھ مدرسہ کو کرایہ نہ ملنے کی بناء پر بالکل ناقابل انتفاع ہو گئی ہے، ان وجوہات کی بنا پر مدرسہ رحمانیہ کی منتظمہ نے یہ فیصلہ کیا ہے کہ اس زمین کو بیچ کر واقف کے نام مدرسہ رحمانیہ میں کمرہ یا درسگاہ تعمیر کرادی جائے تا کہ میت کو اس کا ثواب پہنچتا رہے، تو کیا یہ فیصلہ شرعاً درست ہے؟تحریر فرمائیں ۔
نیز بتلائیں کہ اگر کوئی وقف ناقابل انتفاع ہو تو اس کو فروخت کرکے اس کے عوض
فتاوی قاسمیہ جلد 17 صفحہ 422
